اہلخانہ نے سابق صدر پرویز مشرف کی موت کی جھوٹی خبروں کو مسترد کر دیا

سابق صدر پرویز مشرف کے اہل خانہ نے جمعہ کے روز اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں تاہم ان کی حالت تشویشناک ہے۔

سابق فوجی جرنیل پرویز مشرف کے اہلخانہ اور آل پاکستان مسلم لیگ نے سوشل میڈیا پر چلنے والی ان خبروں کو مکمل طور پر مسترد کیا جس میں کہا گیا تھا کہ پرویز مشرف انتقال کر گئے ہیں۔

سابق (ر) جنرل پرویز مشرف کے آفیشل ٹویٹر اکاؤنٹ سے جاری ایک بیان میں اہلخانہ نے لکھا ہے کہ "وہ (پرویز مشرف) وینٹی لیٹر پر نہیں ہیں۔ اپنی بیماری (امائلائیڈوسس) کی پیچیدگی کی وجہ سے گزشتہ 3 ہفتوں سے اسپتال میں داخل ہیں۔”

یہ بھی پڑھیے

پی ٹی آئی کی مقبولیت نے ن لیگ اور پی پی کو ملکر الیکشن لڑنے پر مجبور کردیا

دہائیوں کے بعد گجرات کے چوہدری برادران سیاسی بنیادوں پر بَٹ گئے

انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "وہ ایک مشکل مرحلے سے گزر رہے ہیں ، جہاں سے ان کی صحت یابی ممکن نہیں ہے اور اعضاء خراب ہو رہے ہیں۔ اس کی روزمرہ کی زندگی میں آسانی کے لیے دعاؤں کی گزارش ہے۔”

اہل خانہ نے یہ بیان اس وقت جاری کیا جب ان کے انتقال کی جھوٹی خبریں سوشل میڈیا پر گردش کرنے لگیں جب کہ کچھ پاکستانی اور ہندوستانی اخبارات نے ان جھوٹی خبروں کو شائع بھی کردیا تھا۔

آل پاکستان مسلم لیگ (اے پی ایم ایل) کے ترجمان امان خان ترین نے بھی پرویز مشرف کی انتقال کی خبروں کی سختی سے تردید کی ہے اور انہیں جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔

ریٹائرڈ جنرل کی بیماری 2018 میں اس وقت سامنے آئی جب آل پاکستان مسلم لیگ نے باقاعدہ طور پر اعلان کیا تھا کہ وہ لاعلاج بیماری amyloidosis میں مبتلا  ہو گئے ہیں۔

Amyloidosis کی بیماری انتہائی سنگین نوعیت کی بیماری ہے جو پورے جسم کے اعضاء اور بافتوں میں amyloid نامی غیر معمولی پروٹین کی تشکیل کی وجہ سے ہوتا ہے۔

امائلائیڈ پروٹین تیزی سے جسم کے اندر پرورش پاتی ہے، جو پورے جسم کے اعضاء اور بافتوں کے نظام کو مکمل طور پر مفلوج کردیتی ہے۔

آل پاکستان مسلم لیگ اوورسیز کے صدر افضل صدیقی نے کہا ہے کہ بیماری نے پرویز مشرف کے اعصابی نظام کو کمزور کر دیا ہے۔ اس وقت وہ لندن میں زیر علاج ہیں۔

30 مارچ 2014 کو پرویز مشرف پر 3 نومبر 2007 کو آئین معطل کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔

17 دسمبر 2019 کو خصوصی عدالت نے پرویز مشرف کو سنگین غداری کیس میں سزائے موت سنائی تھے۔

سابق فوجی حکمران مارچ 2016 میں علاج کے لیے دبئی چلے گئے تھے اور تب سے وہ پاکستان واپس نہیں آئے ہیں۔

متعلقہ تحاریر