ملک میں پہلی بار خواجہ سراؤں کا قومی دن منایا گیا
وفاقی محتسب سیکرٹریٹ آف پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ پہلا قومی ٹرانس جینڈر ڈے منایا

ٹرانس جینڈر کمیونٹی نے وفاقی محتسب سیکرٹریٹ برائے انسداد جنسی ہراسیت میں پہلا قومی ٹرانس جینڈر ڈے منایا گیا۔
ٹرانس جینڈر رائٹس کنسلٹنٹس پاکستان کے تعاون سے وفاقی محتسب سیکرٹریٹ آف پروٹیکشن اگینسٹ ہراسمنٹ پہلا قومی ٹرانس جینڈر ڈے منایا۔تقریب میں ڈنمارک کے سفیر ایچ ای لیز روزن ہولم، امریکی و آسٹریلوی سفارت خانے سمیت برطانوی ہائی کمیشن کے حکام اور ملک بھر سے خواجہ سراؤں نے شرکت کی۔
یہ بھی پڑھیے
کے پی اسمبلی میں خواجہ سراؤں کے تحفظ کا بل پیش، خواتین پر تشدد کیخلاف بل منظور
ٹرانس جینڈر ڈے کے موقع پر تقریب سے خطاب میں وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا کہ ہمیں خواجہ سراؤں کو مرکزی دھارے میں لانے کی ضرورت ہے۔ وہ سب ہم میں سے ہیں۔ ہم ان کی پسماندگی کے درد کو محسوس کر سکتے ہیں۔
“Equality with inclusivity is important. This is the first step, the utmost goal is that all trans persons should be treated with justice.” Kashmala says, #PrideofPakistan #NationalTransgenderDay #FOSPAH #TRCP #PrideMonth #TransPride pic.twitter.com/CtbjBUkYg8
— Transgender Rights Consultants Pakistan (@trans_pk) June 9, 2022
ان کا کہنا تھا کہ قانون برائے تحفظ حقوق خواجہ سرا 2018 سے پہلے، ٹرانس جینڈرز کے لیے کوئی خاص قانون نہیں تھا۔ پاکستان ٹرانس شناخت کو تسلیم کرنے والے سرفہرست 12 ممالک میں سے ایک ہے۔اب فرد کے زمرے میں ٹرانس جینڈر بھی شامل ہے۔
وفاقی محتسب کشمالہ طارق نے کہا کہ تسلیم کیا کہ ٹرانس جینڈرز کو زیادہ تر محکمہ پولیس کی طرف سے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
تقریب سے خطاب میں ٹرانس جینڈر رائٹس کنسلٹنٹس پاکستان کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر نایاب علی نے کہا کہ پاکستان ٹرانس رائٹس کے حوالے سے پوری دنیا کیلئے ایک مثال ہے۔
یہ بھی پڑھیے
خواجہ سرا عائشہ مغل پرائیڈ آف پرفارمنس ایوارڈ کیلیے نامزد
ٹرانس جینڈر رائٹس کنسلٹنٹس پاکستان کے ڈائریکٹر نے کہا کہ ٹرانس جینڈر کمیونٹی کے معیار زندگی کو بلند کرنے میں عام لوگوں کے کردار کی تعریف کی ۔
خیبر پختون خواہ سے آئی ہوئی خواجہ سرا فرزانہ جان نے کہا کہ اس تقریب کا اہتمام کرنے پر ہم شکر گزار ہیں۔ پاکستان میں خواجہ سرا کمیونٹی کی ترقی کے لیے ہم سب پر امید ہیں ۔









