حکومت کو کہتا ہوں نمبرز جھوٹ نہیں بولتے ، سابق وزیر خزانہ شوکت ترین
پی ٹی آئی حکومت کے وزیر خزانہ کا کہنا ٹیکسز کی بھرمار سے فیکٹریاں بند ہو جائیں گی بے روزگاری بڑھے گی۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت کے وزیر خزانہ شوکت ترین نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ نمبرز جھوٹ نہیں بولتے ہیں ، کہتے ہیں ان کا خیال ہے کہ زرعی گروتھ 3.9 ہو گی جو ہوتی نظر نہیں آرہی ہے۔ حکومت نے 5 فیصد گروتھ کی بات کی ہے۔
اسلام آباد میں پی ٹی آئی رہنماؤں کے پریس کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین کا کہنا تھا کہ حکومت کے شرح نمو کے فگرز مشکوک ہیں ، یہ کس کو بے وقوف بنا رہے ہیں اکنامک سروے کو پڑھ لیں۔ فنانس ایک سنجیدہ معاملہ ہے حکومت اس پر سنجیدہ ہو جائے۔
یہ بھی پڑھیے
وفاقی بجٹ میں سڑکوں اور شاہرات کی تعمیر کے لیے 118 ارب روپے مختص
حکومتی فیگرز پر تنقید کرتے ہوئے شوکت ترین کا کہنا تھا کہ میں حکومت کو صرف یہ کہتا ہوں کہ اپنے فیگرز ٹھیک کرلیں ، کیونکہ نمبرز جھوٹ نہیں بولتے ہیں۔ ہماری ایکسپورٹس اور ترسیلات زر بھی ریکارڈ تھی ،
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا حکومت نے بجٹ میں کیپیسٹی ادائیگی کے لیے 550 ارب روپے رکھے ہیں ، باقی کی کیپیسٹی ادائیگی کے لیے رقم کہاں سے آئے گی۔ اگلے سال کیپیسٹی ادائیگی کے لیے 1450 ارب روپے درکار ہوں ۔ ہماری کیپسٹی ادائیگی 850 ارب روپے تھی۔
پیٹرولیم مصنوعات پر لیوی اور ٹیکسز کی مد میں 35 روپے فی لیٹر قیمت مزید بڑھ جائے گی ، جس کے پیٹرولیم لیوی 750 ارب روپے تک پہنچ جائے گی، جس سے عوام پر مہنگائی کا ایک اور دور آئے گا۔
شوکت ترین کا کہنا تھا کہ ڈیزل کی قیمت بڑھنے سے ٹرانسپورٹیشن کی قیمتوں پر فرق پڑے گا ، مہنگائی جب زیادہ ہو گی تو کاروبار کیسے بڑھے گا ، بینکوں پر حکومت نے ٹیکس ریٹ بڑھا دیا ہے۔
ان کا کہنا تھا ٹیکسز کی بھرمار سے فیکٹریاں بند ہو جائیں گی اور بےروزگاری بڑھے گی ۔ ہم نے صنعتوں کو مراعات دی تھیں ، یہ حکومت واپس لے رہی ہے ، ہم نے سب سے زیادہ روزگار کے مواقع پیدا کیے تھے۔









