ترسیلات زر میں 25 فیصد کمی، سمندر پار پاکستانیو ں نے 2.3 ارب ڈالر بھجوائے
مئی کے مہینے میں ترسیلات زر پچھلے سال مئی2021 کے مقابلے میں بھی6.9فیصد کم ہے

اسٹیٹ بینک پاکستان کے اعدادو شمار کے مطابق رواں سال مئی کے مہینے میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے2.3ارب ڈالرکی ترسیلات بھیجی گئی جو اس سے پچھلے ماہ اپریل کے مقابلے میں 25.4فیصد کم ہے۔
مرکزی بینک کے جاری کردہ اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ ماہ مئی کے مہینے میں ترسیلات زر پچھلے سال مئی2021 کے مقابلے میں بھی6.9فیصد کم ہے۔ سمندر پارپاکستانیوں کی جانب سے گزشتہ ماہ مئی میں 2.3ارب ڈالر بھجوائیں گئے۔
یہ بھی پڑھیے
قائم مقام گورنر اسٹیٹ بینک پی ٹی آئی حکومت کے گن گانے لگے
ایس بی پی کے مطابق مئی کے 2.3ارب ڈالر کے ترسیلات زر شامل ہونے کے بعد رواں مالی سال کے11ماہ یعنی جولائی2021تامئی 2022کے دوران ترسیلات زر کا مجموعی حجم 28.4ارب ڈالر ہوگئی ہیں جو پچھلے مالی سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 6.3فیصد ہے۔
رواں سال اپریل میں بیرون ملک پاکستانیوں کی جانب سے3.1 ارب ڈالرکی ترسیلات بھیجی گئی تھی جو کسی بھی ایک ماہ میں 3 ارب ڈالر سے زائد کی ترسیلات کا ریکارڈ ہے۔
مرکزی بینک کے اعداد وشمار کے مطابق مئی میں سعودی عرب سے 54 کروڑ20 لاکھ ڈالر ،متحدہ عرب امارات سے 43 کروڑ50 لاکھ ڈالر،برطانیہ سے 35کروڑ40لاکھ دالر اور امریکہ سے 23کروڑ30لاکھ ڈالر بھیجے گئے۔
اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق سعودی عرب سے پاکستان بھیجی گئی رقوم کا شیئر کل ریمیٹننس کا 25.3 فیصد رہا۔ رواں مالی سال کے ابتدائی نو ماہ میں متحدہ عرب امارات سے پاکستان کے لیے ترسیلات زر میں 5.3 فیصد کی کمی ہوئی۔
امریکہ سے پاکستان بھیجی گئی رقوم 9.6 فیصد اضافے کے ساتھ 2211.3 ملین ڈالر جب کہ برطانیہ سے ترسیلات زر 13.9 فیصد بڑھ کر 3187.3 ملین ڈالر رہیں۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 2021 میں بیرون ملک ملازمت کے لیے رجسٹرڈ پاکستانی ورکرز کی تعداد 286648 رہی، ان میں 155771 نے سعودی عرب کے لیے رجسٹریشن کرائی جو کسی بھی دوسرے ملک سے کہیں زیادہ ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی بجٹ برائے مالی سال22.23کے لئے ترسیلات زر کا ہدف 32ارب ڈالر رکھا گیا ہے۔









