مفتاح اسماعیل نے ملک کے دیوالیہ ہونے کا خدشہ ظاہر کردیا

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا ہے پیٹرول اور ڈیزل پر مکمل سبسڈی ختم نہ کی تو آئی ایم ایف کا ریلیف پروگرام نہیں ملے گا۔

وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے کہا ہے ایسا لگتا ہے کہ یہ ملک صرف ایک فیصد امیروں کے لیے بنا ہے، پہلی بار امیروں پر ٹیکس لگایا گیا ہے ، اگر جولائی تک پیٹرول اور ڈیزل کی سبسڈی ختم نہ کی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار وفاقی وزیر خزانہ ڈاکٹر مفتاح اسماعیل نے اسلام آباد میں آئی کیپ کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا کہنا تھا اگر ہم نے جولائی تک پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم نہ کی تو ملک دیوالیہ ہو جائے گا ، پیٹرول اور ڈیزل پر سبسڈی ختم نہ کی تو آئی ایم ایف سے معاہدہ  بھی نہیں ہوگا۔

یہ بھی پڑھیے

امریکی میک اپ ساز کمپنی”ریولون“دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گئی

امریکی سفیر کی پی ایس ایکس آمد ، گونگ پر ضرب لگا کر کاروبار کا آغاز کیا

مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا گیس کے محکمہ میں بھی خسارے کا سامنا ہے گیس کا سرکلر ڈیٹ 1500 ارب ہو گیا ہے اب 4 ہزار روپے کا گیس لے کر 5 سو روپے میں عوام کو نہیں دے سکتے۔ گیس کی قیمتیں اب حکومت خرید کی قیمت کے  مطابق ہی عوام کو فراہم کرے گی۔

پیر کو وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب ہمیں حکومت ملی تو کچھ معاشی مسائل موجود تھے، میں نے کبھی بھی پاکستان کے ایسے حالات نہیں دیکھے، میں پہلے بھی وزیر خزانہ رہا ہوں، کے الیکٹرک والے آئے تھے ، انہوں نے کہا کہ فلاں کے پیسے ہیں ، فلاں کے پیسے ہیں ، میں نے کہا یہ تو وہی مسائل ہیں جو چار سال پہلے تھے اور 30 سال سے یہی مسائل ہیں۔

ان کا کہنا تھا چار سال پہلے گردشی قرضہ 503 ارب روپے تھا اور آج 2500 ارب ہے، اس سال 500 ارب روپے کا گردشی قرضہ بڑھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں سب سے بڑا مسئلہ سرکلر ڈیٹ کا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ کا کہنا تھا 1100 ارب کی سبسڈی اور 500 ارب روپے کا گردشی قرضہ تھا ، 1600 ارب روپے پاکستان کے عوام کے جیب سے ہی نکالنا ہوں گے ، 100 یونٹ کے عوض ہم نے 3200 ارب کا نقصان کیا، بجلی کے شعبے میں نقصانات کی کئی وجوہات ہیں۔

وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا کہ سرکلر ڈیٹ مزید بڑھا تو ملک کا معاشی نظام بیٹھ جائے گا، کوئلہ کی انٹرنیشنل قیمت 20 سال سے 50 ڈالر سے زائد نہیں تھی، اب کوئلہ کی انٹرنیشنل قیمت 300 ڈالر سے زائد ہے۔ امپورٹڈ کوئلہ چار سو گنا مہنگا ہو چکا ہے اور اب فیول ایڈجسمنٹ چارجز کی مد میں جو بل آئے گا اس سے اللہ ہی معاف کرے ۔

انہوں نے کہا کہ لگتا ہے کہ یہ ملک صرف امرا کے لیے بنا ہے، کراچی اور لاہور میں سب امیروں کے بچے صرف ایک اسکول میں پڑھتے ہیں، ملک میں پہلی بار امیروں پر ٹیکس لگایا ہے، بجٹ میں 30 کروڑ سے زاید کمانے والوں پر 2 فیصد ٹیکس لگایا ہے۔

دوسری جانب مفتاح اسماعیل نے نجی ٹی وی پروگرام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو سے تین ماہ میں مہنگائی کے مسئلے کو کنٹرول کر لیں گے۔ ملک میں اسٹرکچر مسائل کا سامنا ہے ایسے مسائل ہوتے ہیں جن کا کوئی حل ہی نہیں ہوتا ۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں مہنگائی کی شرح 25 سے 30 فیصد تک پہنچنے نہیں دینگے ۔ حکومت نے ریٹیلرز پر فکس ٹیکس عائد کر دیا گیا ہے اب دکانداروں کو بھی ٹیکس نیٹ میں لا رہے ہیں۔

بعد میں میڈیا سے بات چیت میں ان کا کہنا تھاکہ ای سی سی نے بجلی کے  7 روپے  94 پیسے فی یونٹ کی منظوری دی ہے لیکن بجلی کے ریٹ یکدم  7 روپے مہنگے نہیں ہوں گے، اس کے لیے کابینہ سے منظوری حاصل کریں گے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کی فیکٹری کے لیے کوئی امتیازی سیلز ٹیکس کی رعایت نہیں ہے۔ یہ مختلف نوعیت کے خام مال پر سیلز ٹیکس کی شرح کم ہوئی ہے، جو کہ ایکسپورٹ کرتے ہیں،  اس میں پاکستان سے ایکسپورٹ ہونے والی  کینڈی کلرز بھی شامل ہیں۔

ایک سوال جواب میں ان کا کہنا تھاکہ  پاکستان ایف اے ٹی ایف کی گرے لسٹ سے نکلنے میں کامیاب ہوجائے گا۔

متعلقہ تحاریر