پنجاب کا بجٹ : اسمبلی ہال لکی ایرانی سرکس کا منظر پیش کرنے لگا

دو روز تک پنجاب اسمبلی میں حکومت اور اپوزیشن کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے 13 تاریخ کو پیش کیا جانے والا بجٹ 14 کو بھی پیش نہ کیا جاسکا، گورنر بلیغ الرحمان نے بجٹ اجلاس کل صبح ایوان اقبال میں طلب کرلیا۔

پنجاب کا بجٹ معمہ بن گیا ، تاریخ میں دو روز تک بجٹ اجلاس بے سود رہا اور بجٹ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ڈیڈ لاک کے باعث پیش نہ ہوسکا ، بجٹ اجلاس دو مختلف جگہ پر طلب گورنر پنجاب  نے کل سہ پہر 3 بجے ایوان اقبال میں طلب کر کیا جبکہ اسپیکر نے پنجاب اسمبلی میں ایک بجے بجٹ اجلاس طلب کرلیا۔

تفصیلات کےمطابق گورنرپنجاب بلیغ الرحمان آئینی اختیارات استعمال کرتے پنجاب اسمبلی اجلاس کا 40 اجلاس منسوخ کیا ، گورنر پنجاب نے پنجاب اسمبلی کا 41واں اجلاس کل سہ پہر 3 بجے ایوان اقبال میں طلب کر لیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

فوج کو بدنام کرنے کی منظم سازش ہو رہی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

بلاول بھٹو کی ایرانی ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس، تعلقات نئی بلندیوں پر لیجانے کا عزم

دوسری جانب اسپیکر پرویز الٰہی 40 واں اجلاس شروع کردیا ہے، اسپیکر نے اجلاس 8 گھنٹے 42 منٹ تاخیر سے شروع ہوا۔ تلاوت قرآن پاک سے اجلاس شروع ہوا۔  نعت رسول مقبولﷺ کے بعد اسپیکر پرویز الہٰی نے صوبائی وزیر خزانہ اویس لغاری کو بجٹ پیش کرنے کو کہا جس پر اویس لغاری نے کہا کہ گورنر بلیغ الرحمان نے یہ اجلاس برخاست کردیا ہے لہذا اب بجٹ تقریر نہیں کی جاسکتی ، اگر بجٹ تقریر پیش کی گئی تو وہ غیر آئینی اور غیر قانونی ہوگی۔

اویس لغاری کے بیان کے بعد مسلم لیگ ن اور ان کے اتحادی ایوان سے باہر چلے گئے۔

اسپیکر پرویز الٰہی نے بجٹ اجلاس کل دن ایک بجے تک ملتوی کردیا اور کہا کہ کل پنجاب اسمبلی میں بجٹ اجلاس ہوگا اور اس میں بجٹ پیش کیا جائیگا۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ آئینی نقطے کے مطابق گورنر صوبہ کا آئینی سربراہ ہوتا ہے جو اجلاس طلب کرنے کے ساتھ برخاست بھی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ گورنر پنجاب کے اجلاس برخاست کرنے کے بعد اسپیکر پنجاب اسمبلی اجلاس جاری نہیں رکھ سکتے اور بظاہر کل 15 جون کو دو مختلف جگہوں پر بجٹ اجلاس طلب کیے گئے ہیں مگر آئین کی روشنی میں گورنر کے حکم کے مطابق ہی اجلاس ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ اپوزیشن چاہتی تھی بجٹ پیش کرنے سے قبل آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری پنجاب ایوان کے موجود ہوں اور ان کے سامنے اپوزیشن اپنے تحفظات رکھیں گی ان کے خلاف مقدمات واپس لیے جائیں گے اور ان سے تحریک انصاف کے اراکین کے چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے پر معافی کا مطالبہ کیا گیا تھا مگر حکومت کی جانب سے آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری کو ایوان میں بولنے کی ضد کو نہ مانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا وہ نہیں آئے گے۔

واضح رہے کہ پنجاب اسمبلی کا اجلاس تو ہوا مگر اجلاس میں دو روز تک بجٹ پیش نہ ہوسکا ، گزشتہ روز بھی اجلاس ملتوی کردیا گیا تھا جبکہ گزشتہ روز سے اجلاس آج سہ پہر 1 بجے اجلاس طلب کیا گیا تھا مگر آج بھی بجٹ پیش نہ ہوسکا۔

یاد رہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے انتخاب کے معاملے پر بھی مقامی ہوٹل میں اجلاس طلب کرلیا گیا تھا۔ دوسری طرف وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز کا کہنا ہے کہ اتحادی کی جانب سے مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا ہے وہ کہیں بھی بجٹ پیش کرسکتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر