مراسلے کی تحقیقات کے لیے پاک فوج اور پی ٹی آئی ایک پیج پر
ترجمان پاک فوج کا کہنا ہے حکومت مراسلے کی تحقیقات کے لیے کمیشن تشکیل دے ہم طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔
بالآخر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور پاک فوج غیرملکی مراسلے کی جوڈیشل کمیشن سے تحقیقات کرانے پر متفق ہو گئی ہے۔
گزشتہ روز نجی وی ٹی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر بابر افتخار کا کہنا تھا انہوں نے کوئی سیاسی بیان نہیں دیا ، قومی سلامتی کمیٹی کی میٹنگ میں کسی سروسز چیف نے نہیں کہا تھا کہ حکومت کے خلاف سازش ہوئی ہے ، اگر حکومت مراسلے پر تحقیقاتی جوڈیشل کمیشن تشکیل دینا چاہتی ہے تو پاک فوج ہر سے تعاون کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیے
رانا ثناء اللہ کے نہلے پر چوہدری مونس الہٰی کو دہلا
الیکشن کمیشن: شہباز اور عمران سمیت دیگر پارلیمنٹرینز کے اثاثوں کی تفصیلات جاری
دو روز قبل دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ "عمران خان حکومت کے خلاف کوئی بیرونی سازش نہیں ہوئی تھی جھوٹ کا سہارا لے کر حقائق کو مسخ کیا جارہا ہے اور گہری سازش کے ذریعے فوج کو بدنام کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔”
ڈی جی آئی ایس پی آر کے انٹرویو پر ردعمل دیتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہنا تھا کہ پاک فوج کے ترجمان فیصلہ نہیں کرسکتے ہیں ، وہ صرف رائے دے سکتے ہیں ، اگر فیصلہ کروانا ہے تو چیف جسٹس سے فیصلہ کروا لیتے ہیں کہ سازش ہوئی ہے یا نہیں۔
عمران خان کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ انہوں نے نہ اپنی رائے دی ہے نہ فیصلہ ، انٹیلی جنس معلومات کی بنا پر جو کچھ سامنے آیا وہ بیان کیا۔
ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ حکومت معاملے کی تحقیقات کرانا چاہے تو کرا لے ، ادارے کو کوئی اعتراض نہیں ہے ، اگر کسی قسم کا تعاون درکار ہو گا تو وہ بھی دیا جائے گا۔
منگل کے روز دنیا نیوز کو دیئے گئے ترجمان پاک فوج کے انٹرویو پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور سابق وفاقی وزیر اسد عمر کا کہنا تھا کہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان ایک مرتبہ پھر مراسلے کی تحقیقات کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، کیونکہ پی ٹی آئی سمجھتی ہے کہ حقائق عوام کے سامنے آنے چاہئیں۔ سیاسی معاملات کو سیاستدانوں کے درمیان رہنا دیا جائے ، اگر ڈی جی آئی ایس پی آر بار بار سیاسی معاملات کی تشریح نہ کریں تو ملک کے لیے زیادہ بہتر ہوگا۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے خدا خدا کرکے کفر ٹوٹا ہے ، اب افواج پاکستان اور پی ٹی آئی کم از کم اس بات پر تو متفق ہو گئے ہیں کہ مراسلے پر جوڈیشل کمیشن کے ذریعے تحقیقات ہونی چاہئیں ، جبکہ پاک فوج کے ترجمان نے تو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرادی ہے جو کہ ایک اچھا سائن ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ اب یہ ذمہ داری سپریم کورٹ کے کندھوں پر آن پڑی ہے کہ وہ جلدازجلد کمیشن تشکیل دے تاکہ مراسلے کا قضیہ حل ہو۔









