کیجریوال اور ممتا بینر جی کا طرز سیاست پاکستانی رہنماؤں کیلئے قابل تقلید مثال
بھارتی سیاستدانوں نے سادگی کی مثال قائم کرنے کے ساتھ تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے

پڑوسی ملک بھارت کے مشہور و معروف سیاستدانوں اروند کیجریوال اور ممتا بینر جی نے سادگی کی مثال قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
ہندوستان کے سیاستدانوں نے لمبے چوڑے وعدے و دعوے کرنے اور بیانیہ بنانے کے بجائے سادگی کی مثال قائم کرنے کے ساتھ ساتھ تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے عملی اقدامات کیے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
نیوز اینکر فٹ پاتھ پر سموسے بیچنے پر کیوں مجبور ہوگیا؟
دوسری جانب پاکستان کے سیاسی رہنماؤں نے انقلابی اصلاحات کے ذریعے تعلیم کے شعبے میں بہتری کے بلند و بانگ دعوے کیے اور سادگی اختیار کرنے پر زور دیا مگر ان کے وعدے و دعوے صرف زبانی ثابت ہوئے عملی مظاہرہ کبھی بھی نظر نہیں آیا۔
پاکستانی صحافی صبوخ سید نے سرکاری اسکولز کی صورتحال کی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت ،سیاسی رہنما اور متعلقہ ادارے سرکاری اسکولوں پر توجہ نہیں دے رہے ہیں جبکہ سرکاری اساتذہ کے بچے بھی نجی تعلیمی مراکز میں پڑھ رہے ہیں۔
انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوام ہمیشہ میڈیا کے ذریعے سرکاری اسکولوں کے خلاف پروپیگنڈا کرتے نظر آئیں گے جبکہ اشرافیہ کے بچوں کو ایسے سکولوں کا علم تک نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے معاشرے میں خطرناک تقسیم پیدا ہو رہی ہے۔
صحافی سبوخ سید نے بھارتی سیاستدان اروند کیجریوال کی تقریر کا ایک ویڈیو بھی شیئر کیا جس میں وہ پرائمری اور سیکنڈری اسکول کے طلباء کے لیے نتیجہ خیز اصلاحات کے بارے میں بات کر رہے تھے۔
ہماری توجہ سرکاری اسکولوں کی طرف بالکل نہیں۔ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کے بچے پرائیویٹ اسکولز میں پڑھتے ہیں۔ میڈیا کے زریعے خاموش طریقے سے سرکاری اسکولوں کے خلاف پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔ اشرافیہ کے بچوں کو ان اسکولوں کا علم ہی نہیں اور یہ عمل معاشرتی تقسیم کو گہرا کر رہا ہے۔۱/۲ pic.twitter.com/RRl9zlAbKQ
— Sabookh Syed | سبوخ سید (@SaboohSyed) June 15, 2022
سبوخ سید کی جانب سے شیئر کیے گئے وڈیو کلپ میں دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اپنی حکومت کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ دارالحکومت میں 4 لاکھ طلباء نجی تعلیمی اداروں کو چھوڑ کر سرکاری اسکولز میں داخل ہوگئے ہیں ۔
کیجریوال نے اپنی تقریر میں کہا کہ دہلی میں 12ویں جماعت کے نتائج 99.7 فیصد رہے ۔وزیر اعلیٰ دہلی نے مزید بتایا کہ ان کی حکومت نے اسکولز کے بچوں کو 2000 روپے انعام دے کر اپنا کاروبار کرنے کا طریقے سیکھائیں جس کا اب پھل آرہا ہے۔
گزشتہ سال مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بینرجی عرف دیدی نے ایک انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ گزشتہ 7 سال سے پارلیمنٹ کی خدمت کر رہی ہیں ۔ ان کی تنخواہ 75,000 روپے ہے لیکن انہیں وزیر اعلیٰ بننے کے بعد آج تک تنخواہ میں ایک پیسہ بھی نہیں ملا۔
ممتا بینر جی نے نے انکشاف کیا کہ وہ کبھی بھی بزنس کلاس میں سفر نہیں کرتی ہیں بلکہ ملکی خزانہ بچانے کے لیے ہمیشہ اکانومی کلاس میں سفر کرنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ممتا بینر جی نے بتایا کہ وہ کرائے کے مکان میں رہ رہی ہے اور کرایہ وہ خود ادا کرتی تھی۔
بنگال کی عوام کی بڑی بہن کے نام سے مشہور ممتا بینر جی کے مطابق وہ 87 کتابوں کی منصفہ ہیں۔ کتب سے حاصل رائلٹی سے اپنی روزی کماتی ہیں ۔ ان کی بہت سی کتابیں بیسٹ سیلر سمجھی جاتی ہیں۔ جن کی آمدنی سے ان کی زندگی آسانی سے گزر رہی ہے ۔
مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں اپنی تخلیق کردہ موسیقی سے جو بھی رقم حاصل کرتا ہوں اسے عطیہ کر دیتی ہوں۔میں اپنے فن پارے سے جو پیسہ کماتی ہوں وہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتی ۔
پاکستانی سیاست دان اور حکمران اشرافیہ ہندوستانی سیاست دانوں بشمول اروند کیجریوال اور ممتا بینرجی کی طرف سے تعلیمی اصلاحات اور کفایت شعاری کے اقدامات کے لیے اٹھائے گئے کچھ مثبت اقدامات کے نقش قدم پر چل سکتے ہیں۔
اس کے بجائے موجودہ حکمران اب قوم سے کفایت شعاری اختیار کرنے اور ذاتی اخراجات کم کرنے کا کہہ رہے ہیں لیکن وہ مراعات اور مراعات چھوڑ کر پہلے کوئی مثال قائم کرنے کو تیار نہیں ہیں اور غیر ملکی دوروں اور سرکاری رہائش گاہوں کے لیے عوامی فنڈز خرچ کرتے رہتے ہیں۔









