بلوچستان کی ہونہار طالبہ کی امریکی جامعہ میں داخلے کیلیے چندہ مہم
ہاتون گل یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں 50فیصد اسکالر شپ پر ماسٹرز آف سائنس میں داخلہ لینے میں کامیاب ہوگئی، داخلہ یقینی بنانے کیلیے طالبہ کو 45ہزار ڈالر درکار ہیں

بلوچستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سے تعلق رکھنے والی ہونہار طالبہ ہاتون گل نے امریکا کی یونیورسٹی آف پنسلوانیا میں اپنے ماسٹرز ڈگری پروگرام کی اسکالرشپ کو برقرار رکھنے کے لیے فنڈ جمع کرنے کا آغاز کردیا۔
انہو ں نے فنڈز جمع کرنے کیلیے کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم GoFundMe کا سہارا لیتے ہوئے عوام سے اپیل کی ہے کہ ان کا آئیوی لیگ میں جانے کا خواب پورا کرنے میں ان کی مدد کی جائے ۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی پروفیسر ذوالفقارعلی بھٹہ دنیا کے100بہترین طبی سائنسدانوں میں شامل
پاکستان میں نظام صحت میں بہتری کیلئے عالمی بینک کا بڑی امداد کا اعلان
انہوں نے لکھا کہ میرا تعلق پاکستان کے سب سے پسماندہ صوبہ بلوچستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں سےہے، میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ آئیوی لیگ میں شرکت کا میرا خواب کبھی پورا ہو گا لیکن میں نے ایک ماہ قبل اپنے آپ کو غلط ثابت کیا جب میں نے یونیورسٹی آف پنسلوانیا (صف اول کی عالمی جامعات میں سے ایک )میں 50فیصد اسکالرشپ کے ساتھ سوشل پالیسی اور ڈیٹا اینالیٹکس میں ماسٹر آف سائنس میں داخلہ حاصل کرلیا۔
انہوں نے لکھا کہ اگر دیکھا جائے تو یہ بہت بڑی بات ہے کہ میں ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے کے باوجود میں سماجی پالیسی سازی میں خواتین کو بااختیار ، حوصلہ مند اور نمائندگی کے قابل بنانے میں کردار اداکرسکتی ہوں لیکن بدقسمتی سے ناگزیر مالی مشکلات مجھے UPenn میں شرکت سے روک سکتی ہیں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ روپے کی قدر میں تباہ کن کمی نہ صرف میری ٹیوشن فیس پوری کرنے کی صلاحیت کو متاثر کر رہی ہے بلکہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر میں ایک تارکین وطن کے طور پر میری روزمرہ کی زندگی کو بھی متاثر کر رہی ہے۔
Please DM if you are interested in donating PKR, I will share the bank details there. Thank you!https://t.co/O8juxU9UGp
— Hatoon Gul (@GulHatoon) June 16, 2022
ہاتون گل نےلکھا کہ UPenn کی طرف سے دی گئی اسکالرشپ کے ساتھ میں نے مجموعی لاگت کا تخمینہ تقریباً 65ہزار ڈالر (بشمول بورڈنگ اور رہائش کے اخراجات) لگایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس رقم کے حساب سے مجھے45ہزار ڈالر کی کمی کا سامنا ہے۔
ہاتون گل نے کہاکہ میں جز وقتی ملازمتیں کرکے اس خسارے کو پورا کرنا چاہتی ہوں اور مجھے امید ہے کہ تحقیقی عہدوں پرمیرا تجربہ اس سلسلے میں میری مدد کرے گا، اگر پیسوں کی کمی اب بھی پورا نہیں ہوئی تو میں اسٹوڈنٹ لون لینے پر مجبور ہو جاؤں گی تاہم پاکستان میں کم تنخواہوں اور روپے کی گرتی ہوئی قدر کو دیکھتے ہوئے میرے لیے قرض کی ادائیگی مشکل ہو سکتی ہے۔
انہوں نے لکھا کہUPenn میرا خوابوں کا اسکول ہے اور پاکستان کے دیہی علاقوں کی پسماندہ خواتین کی ترقی میر زندگی کا سب سے بڑا خواب ہے جس کی تکمیل کیلیے سوشل پالیسی میں گریجویٹ کی ڈگری حاصل کرنا میرے لیے اہم ہے۔
انہوں نے مزید لکھا کہ میں 14ہزار سے کم نفوس پر مشتمل اپنے گاؤں کی پہلی خاتون ہوں جس نے امریکا میں گریجویٹ اسکول میں داخلہ لیا ہے۔ میرا UPenn میں جانا نہ صرف مجھے اپنے مقاصد کے حصول کے راستے پر گامزن کرے گا بلکہ میرے گاؤں کی دیگر لڑکیوں اور خواتین کو بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب ملے گی۔انہوں نے کہا کہ میں آپ سے درخواست کرتی ہوں کہ ایک باوقار یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی میری جستجو میں میرا ساتھ دیں۔









