مہنگائی کا عذاب ، اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو آگ لگ گئی
ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق مہنگائی میں ایک ہفتے کے دوران 3.38 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاجبکہ مہنگائی کی سالانہ شرح 27.82 فیصد تک پہنچ گئی۔
ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تین مرتبہ کے بڑے اضافے سے ملک میں مہنگائی کا سونامی آگیا ہے ، عمران خان حکومت کے خلاف مہنگائی مارچ کرنے مخلوط حکومت نے غریبوں کا جینا مشکل کردیا ہے ، مہنگائی کی سالانہ شرح 27.82 فصد کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
عمران خان حکومت اور شہباز شریف حکومت میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو مسلم لیگ (ن) حکومت کی دو ماہ کی کارکردگی کا پول کھل کر سامنے آگیا ہے۔ اعدادوشمار کے مطابق اشیائے خورونوش قیمتیں آسمان سے باتیں کررہی ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
نئے بجٹ میں ٹیکس حکام کو خطرناک اختیارات دیے جانے کاانکشاف
بازار 9 بجے، شادی ہالز 10 بجے اور ریسٹورنٹس 11 بجے بند کرنیکا حکم جاری
مشکل فیصلوں کے نام پر وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل عوام کی جانوں سے کھیلنے کے در پر آ گئے ہیں، مگر ان مشکل فیصلوں کا عملدرآمد اسمبلیوں میں بیٹھے اراکین پر نہیں ہوتا ہے ، کہا جاتا ہے کہ ہم غریبوں پر امیروں پر ٹیکسز لگا رہے ہیں مگر حیرت بات یہ ہے کہ پستا ہمیشہ بیچارہ غریب ہی ہے۔
پاکستان میں مہنگائی کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ مہنگائی کی سالانہ شرح 27.82فیصد کی بلند ترین سطح پر جاپہنچی۔رواں ہفتہ 75سالہ تاریخ کا مہنگاترین ہفتہ ثابت ہوا۔
ادارہ شماریات پاکستان کے مطابق مہنگائی میں ایک ہفتے کے دوران 3.38 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیاجبکہ مہنگائی کی سالانہ شرح 27.82 فیصد تک پہنچ گئی۔
اگر عمران خان اور شہباز شریف حکومتوں میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کا تقابلی جائزہ لیں تو واضح فرق دکھائی گا کہ شہباز حکومت مہنگائی کا سونامی لے آئی ہے۔
صرف دو ماہ قبل عمران خان حکومت میں پیٹرول کی قیمت 150 روپے فی لیٹر تھی جبکہ ڈیزل کی فی لیٹر قیمت 145 روپے تھی۔

اعدادوشمار کے مطابق شہباز شریف حکومت کو آئے ہوئے 2 ماہ اور 7 دن ہوئے ہیں جبکہ پیٹرول کی قیمت 234 روپے اور ڈیزل کی قیمت 263 روپے فی لیٹر ہو گئی ہے۔
پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کا براہ راست اثر تمام اشیائے کی قیمتوں پر پڑتا ہے۔
دو ماہ قبل دال چنا کی فی کلو 180 روپے میں دستیاب تھا جبکہ دو ماہ بعد یہی جنس 230 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔
کابلکی چنا 320 روپے فی کلو دو ماہ قبل دستیاب تھا جبکہ آج 440 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔
ٹھیک دو ماہ سات دن قبل دال مسور 260 روپے فی کلو میں دستیاب تھی جبکہ آج یہی دال 320 روپے فی کلو میں مل رہی ہے۔
ڈالڈا کوکنگ آئل 540 روپے فی کلو میں مل رہا تھا آج 624 روپے فی کلو میں دستیاب ہے۔
چکی کا آٹا دو ماہ پہلے 85 روپے فی کلو میں دستیاب تھا جبکہ آج کل اس کی قیمت 95 سے 100 روپے کے درمیان ہے۔
چاول کی قیمتوں میں کم از کم اضافہ 100 روپے فی کلو ریکارڈ کیا گیا ہے۔
چائے کی پتی 1100 روپے سے 1200 روپے فی کلو ہو گئی ہے جبکہ ڈبل روٹی 130 روپے سے 160 روپے تک پہنچ گئی ہے۔
اعدادوشمار کے مطابق پیکٹ کا دودھ 170 روپے فی لیٹر میں دستیاب تھا اب 180 روپے فی لیٹر میں مل رہا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی سطح پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ضرور ہوا ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ موجودہ حکومت ساری صورتحال کا ذمہ دار سابقہ حکومت کو قرار دے کر اپنی جان چھڑا لے۔
ان کا کہنا ہے کہ عمران خان حکومت کو ہٹانے سے پہلے اتحادی حکومت کے سرکردہ رہنماؤں کو پتا تھا کہ حکومت لینا لوہے کا چنا چبانے کے مترادف ہوگا ، عوام کو ریلیف دینے کے وعدے کئے گئے تھے ، مگر صورتحال یہ ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں روز روز کے اضافے نے رکشہ مالکان کو رکشوں کو آگ لگانے پر مجبور کردیا ہے، اگر حکومت سمجھتی ہے کہ ان کے لگائے ٹیکسز کا سارا بوجھ امیروں پر پڑے گا تو کوئی ایک مثال سامنے لائیں کہ کسی امیر نے اپنی گاڑی کو آگ لگائی ہو اور فیکٹری بند کرکے گھر بیٹھ گیا ہو۔ مفتاح اسماعیل صاحب خود صنعت کار ہیں وہ بتائیں انہوں نے کتنی فیکٹریاں بند کی ہیں۔









