ایس بی سی اے نے کراچی میں جاری 18 اسکیموں کو غیرقانونی قرار دے دیا
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے حکام نے شہریوں کو خبردار کرتے ہوئے ان اسکیموں میں سرمایہ کاری سے منع کیا ہے۔
کراچی والے شہری ہو جائیں ہوشیار ، سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) نے شہر میں جاری 18 رہائشی منصوبوں کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے جاری ہونے والے نوٹی فیکیشن میں شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مندرجہ ذیل اسکیموں میں سرمایہ کاری سے گریز کریں۔
یہ بھی پڑھیے
سکھر اور گڈو بیراج میں پانی کی آمد میں 60 فیصد کمی کا انکشاف
سندھ اسمبلی میں خواتین ارکان کی عزتیں محفوظ نہیں، دعا بھٹو
ایس بی سی اے کے نوٹی فیکیشن کے مطابق سرجانی ٹاؤن کی زبیدہ ریزیڈ نسی ، فاطمہ ریزیڈنسی ، میمن ریزیڈنسی ، فاطمہ ڈریم سٹی ، سرجانی ڈریم سٹی اور الحدہ غیرقانونی اسکیمیں ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملیر میمن گوٹھ کی فاطمہ ڈریم سٹی,کورنگی ٹاؤن اورملیرریزیڈ نسی,منگھوپیرکی مرواھلزولاز, مھران ھائی وےکی رمیساسٹی بھی غیرقانونی اسکیمیں ہیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے گلشن معمار کی العارف ریزیڈ نسی ، جمیلا گرینڈ ، گیٹ وے گرین سٹی ، سپریم سٹی ، ماؤنٹین ویو سٹی ، ایم اے انکلیو ، آزان آئیکون سٹی اور آئمہ آرکیڈ کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔









