فریئر ہال بند کرنے سے اسکی تاریخی حیثیت متاثر ہوگی، ماروی مظہر
عوامی تفریحی گاہ فریئر ہال کے داخلی راستوں کو بند کرنے کے خلاف سماجی تنظیموں کا احتجاج

کراچی میں واقع تاریخی عمارت اورعوامی تفریحی گاہ فریئر ہال کے داخلی راستوں کو گیٹ لگا کر بند کرنے کے خلاف سماجی تنظیموں اورعوام نے شدید احتجاج کیا ۔
سماجی تنظیموں کے مطابق حکومت سندھ تاریخی عمارت اور تفریح گاہ کے داخلے راست بند کرکے انٹری ٹکٹ لگا کر اسے عام شہریوں کے لیے بند کررہی ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
بازار 9 بجے، شادی ہالز 10 بجے اور ریسٹورنٹس 11 بجے بند کرنیکا حکم جاری
سماجی رہنما ریسرچر اورآرٹیکچرماروی مظہر نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر پراپنے پیغام میں کہا ہے کہ فریئرہال کراچی میں تمام طبقات کے لیے سب سے زیادہ انٹرایکٹو اور اچھی طرح سے استعمال ہونے والی عوامی جگہوں میں سے ایک ہے تاہم اسے باڑ لگاکر بند کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔
Frere Hall is one of the most Democratic, Interactive, and Well-Utilized Public Spaces for all classes in Karachi. Today, neo liberal decisions of fencing, gating, arching is as an act of obstruction / protecting Public Spaces needs debate with the Public. https://t.co/9dSKWhblvE
— Marvi Mazhar (@marvimazhar) June 18, 2022
ماروی مظہر نے فریئر ہال کو بند کے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عوامی مقامات سے لطف اندوز ہونا شہریوں کے حقوق ہیں۔ لگتا ہے کہ سمندر اور باغوں سمیت شہر میں عوام سے ہر چیز دور کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے ۔
آرٹیکچرماوری مظہر کے مطابق فریئر ہال کو اس سے بند کرنے سے اس کی خوبصورتی بھی متاثر ہوگی ۔
معروف ڈیزائنر، اداکار دیپک پروانی نے بھی فریئر ہال دروازے لگاکر بند کرنے کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیا ۔ انہوں نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں لکھا کہ جب فریئر تعمیر کرنے والے انگریزوں نے چاروں طرف دروازی نہیں لگایا تو تم کون ہوتے ہو عوامی جگہ بند کرنے والے ؟۔
When the british did not put a wall around it or a door then who the hell are you blocking off public spaces that belong too the people of #karachi #free #FrereHall stop wasting public money with ridiculous ideas too pocket ur #corruption
— Deepak perwani (@DPerwani) June 20, 2022
سماجی تنظیموں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے فریئر ہال کو عوام کے لیے بند کرنے پر شدید احتجاج کیا ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان زیر تعمیر دروازوں کو فوری طور پر ہٹایا جائے اور اس عوامی جگہ کو عوام کے لیے کھُلا رکھا جائے۔
نیوز 360 کے نمائندے سے گفتگو میں احتجاجی مظاہرین نے کہا کہ شہر کے غریب لوگ پارک میں شیر و تفریح کے لیے آتے ہیں مگر اب فریئر ہال کو بند کیا جا رہا ہے۔ غریبوں سے سستی تفریح کے مواقع چھینے جا رہے ہیں۔
احتجاجی مظاہرے میں شریک افراد نے لوکل گورنمنٹ کے اس فیصلے کو غیر قانونی اور غیر اخلاقی قرار دیا ۔ مظاہرین نے وزیر اعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ سے نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہ سندھ حکومت دروازے اور باڑ لگانے کا منصوبہ ترک کرے ۔
خیال رہے کہ کراچی کا فرئیر ہال کو یادگار لینڈ مارک کہلاتا ہے ۔ سیٹھ دھول جی ڈنشا نے فریئر ہال کی تعمیر کی لیے زمین عطیہ کی تھی ۔ برطانوی کمشنرسر ہنری برٹیل ایڈورڈ فرئیر نے فریئر ہال 1860 سے 1865 کے درمیان تعمیر کروایا ۔









