مفتاح اسماعیل نے آئی ایم ایف پروگرام بحال ہونے کی خوشخبری سنا دی
وزیر خزانہ کا کہنا ہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کا پروگرام ایک سے ڈیرھ دن میں بحال ہو جائے گا۔

وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کا کہنا ہے آئی ایم ایف کا پروگرام ایک سے ڈیرھ دن میں بحال ہو جائے گا، واضح رہے کہ پاکستان کے معروف اخبار نے ایک روز قبل اس بات کا دعویٰ کیا تھا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے لیے امریکا سے مدد مانگی ہے۔
اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ میں بہت پرامید ہوں کہ آئی ایم ایف کا پروگرام بحال ہو جائے گا۔
ان کا کہنا تھا اب صاحب ثروت لوگوں پر ٹیکسز لگیں گے ، جبکہ غریب طبقے کو ریلیف دیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا آئی ایم ایف کا تنخواہ بڑھانے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھیے
نئی حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں ناکامی کی جانب گامزن ہے، عزیر یونس
مہنگائی کا عذاب ، اشیائے خورونوش کی قیمتوں کو آگ لگ گئی
مفتاح اسماعیل کا کہنا تھا جس کی شخص کی سالانہ آمدنی 12 لاکھ روپے تک ہو گی اسے ٹیکس سے استثنا حاصل ہو گا۔ اس پر آئی ایم ایف کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے جس انداز سے مفتاح اسماعیل نے گفتگو کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے وہ بہت زیادہ کانفیڈنٹ نہیں ہیں ، آئی ایم ایف کو بجٹ کے اعدادوشمار پر اعتراض ہیں ، آئی ایم ایف کو ٹیکس سلیبز کم کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے مگر انہوں نے ٹیکس ریفارمز پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا ہے ۔ جس طرح کا بجٹ آئی ایم ایف کے ساتھ طے کیا گیا وہ اس کے مطابق نہیں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل نے پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ چین سے ایک یا دو دن میں پیسے آجائیں گے مگر آج آٹھ دن ہو گئے ہیں ابھی تک چائنہ سے پیسے پاکستان نہیں پہنچے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مفتاح اسماعیل کہہ رہے ہیں کہ آئی ایم ایف کا پروگرام ایک سے ڈیرھ دن میں بحال ہو جائے گا ، جبکہ دوسری جانب واشنگٹن میں امریکا سے درخواست کی جارہی ہے کہ وہ آئی ایم ایف پر دباؤ ڈالے کے وہ پاکستان کا پروگرام بحال کردے ، مطلب صاف ہے کہ امریکا سے کوئی گرین سگنل ملا ہے تو وزیر خزانہ دعویٰ کررہے ہیں کہ پروگرام بحال ہونے والا ہے ۔ سوال صرف یہ ہے کہ آئی ایم ایف ہماری بات مان رہا ہے یا امریکا کی؟
واضح رہے کہ عمران خان حکومت نے 2019 میں 39 ماہ کے لیے 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ پروگرام پر دستخط کیے تھے ، تاہم شرائط پوری نہ ہونے پر آئی ایم ایف نے توسیعی فنڈ پروگرام کے 3 ارب ڈالر روک لیے تھے۔
پاکستان کے معروف اخبار کے مطابق امریکا میں پاکستان کے سفیر مسعود خان نے اسسٹنٹ یو ایس ٹریڈ ریپریزینٹیٹو (یو ایس ٹی آر) برائے جنوبی اور وسطی ایشیا کرسٹوفر ولسن سے ملاقات کی تھی اور آئی ایم ایف کے پروگرام کی بحالی کے لیے مدد کا کہا تھا۔









