چاول کی 30 لاکھ ٹن اضافی پیداوار کے باوجود حکومت عوام کو ریلیف دینے میں ناکام
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ چاول کے معاملے میں ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں تحریک انصاف کے دور میں 85 لاکھ ٹن چاول پیدا ہوا ہے اور یہ پاکستان میں چاول کی شاندار ترین پیداوار ہے۔
تحریک انصاف کی حکومت میں چاول کی تاریخ ساز 85 لاکھ ٹن پیداوار بھی عوام کو ریلیف نہ دی سکی۔ ضرورت سے 30 لاکھ ٹن اضافی چاول کے باوجود چاول 100 روپے کلو تک مہنگا ، فی کلو قیمت 340 تک پہنچ گئی۔
بڑھتی ہوئی مہنگائی کے پیش نظر ملک بھر کی مارکیٹوں میں مختلف اقسام کے چاول 40 سے 100 روپے تک مہنگے ہوئے ہیں۔
درجہ سوم کا ٹوٹا چاول جو 80 روپے کلو تھا اب 120 روپے کلو ہے۔ یہ وہ چاول ہیں جو ملک کے غریب ترین لوگ کھاتے ہیں یا پھر یہ مرغیوں کی فیڈ میں ڈالا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
فیٹف کی گرے لسٹ سے نکلنا پاکستان کے لیے تہہ در تہہ سود مند ہے، ماہرین
درجہ دوم کا چاول جسے ادواڑھ یا پونی چاول کہا جاتا ہے اب 140 سے بڑھ کر 200 روپے کلو ہوچکا ہے۔ یہ وہ چاول ہے جو ملک کے غریب افراد کھاتے ہیں۔۔
سپر باسمتی چاول جو 180 روپے کلو تھا اب 280 روپے کلو ہے۔
کائنات چاول جو 190 روپے کلو تھا اب 290 اور کائنات چاول جو 190 روپے کلو تھا اب 290 اور 300 روپے کلو ہوچکا ہے۔
کائنات اسٹیم اور پالش والا چاول جو 220 روپے کلو تھا اب 320 سے 340 روپے کلو ہے ۔
ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ چاول کے معاملے میں ستم ظریفی یہ ہے کہ ملک میں تحریک انصاف کے دور میں 85 لاکھ ٹن چاول پیدا ہوا ہے اور یہ پاکستان میں چاول کی شاندار ترین پیداوار ہے۔
پاکستان کی چاول کی سالانہ ضرورت لگ بھگ 55 لاکھ ٹن ہے اور پاکستان کی ضرورت سے 30 لاکھ ٹن چاول زیادہ پیدا ہوا ہے۔
بات یہاں ہی ختم نہیں ہوجاتی پاکستان میں چاول کا ایک سال پہلے کا کیری اوور اسٹاک بھی 20 لاکھ ٹن موجود ہے اور یوں ملک میں 10 ملین ٹن کے لگ بھگ چاول موجود ہے جو کہ ضرورت سے 45 لاکھ ٹن زیادہ تھا۔ اس کے باوجود بھی چاول کے ریٹ کنٹرول کرنے والا کوئی نہیں۔









