سکھر انتظامیہ نے شہر کو کربلا بنا دیا، 3 ماہ سے پانی کی سپلائی بند
اہل سکھر کا چیف جسٹس پاکستان سے علاقے میں فراہمی آب کی قلت کا نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا

سکھر میں پانی کی قلت کے خلاف شہریوں نے خالی برتن اٹھا کر شہری انتظامیہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے بلدیہ اعلیٰ سکھر اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی بھی کی ۔
تفصیلات کے مطابق سکھر کے علاقوں نصرت کالونی نمبر پانچ کے مکینوں علاقے کے معززین کی قیادت میں پانی کی عدم فراہمی پر احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پانی کے خالی برتن اٹھا رکھے تھے ۔ مظاہرین نے بلدیہ اعلیٰ سکھر اور صوبائی حکومت کے خلاف شدید نعرے بازی کی ۔
یہ بھی پڑھیے
انتظامیہ اور عوامی نمائندوں کی مجرمانہ غفلت سے سکھر گندگی کے ڈھیر میں تبدیل ہوگیا
احتجاجی مظاہرین سے خطاب میں علاقہ معززین نے کہا کہ سکھر انتظامیہ نے شہریوں کیساتھ ظلم کی انتہا کردی ہے ۔ علاقے میں گزشتہ 3 ماہ سے پانی کی سپلائی مکمل بند ہے ۔ اہل علاقہ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں جبکہ انتظامیہ کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ۔
مظاہرین کا کہنا تھا کہ لطیف پارک کے قریب لگائے جانے والے واٹر پمپ بھی کئی مہینوں سے بند ہے جبکہ علاقہ مکین فراہمی آب سے پریشان ہیں اور بھاری رقوم کے کےعیوض پانی خرید نے پر مجبور ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہافسوس کی بات ہے کہ ہم ایک آزاد ،جمہوری ملک میں رہ رہے ہیں جہاں دوسری چیزیں تو ملنا بہت دور ہیں یہاں تو پانی ملنا بہی بہت مشکل ہے ۔شہری پانی کو ترس رہے ہیں جبکہ انتظامیہ ہماری شکایات کے باوجود خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہے ۔
مظاہرین نے چیف جسٹس پاکستان سمیت دیگر بالا حکام سے علاقے میں فراہمی آب کی قلت کا نوٹس لیکر پانی کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔









