لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ: عمران خان کی 10مقدمات میں ضمانت منظور
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشارت مفتی نے پولیس کو عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا، مقدمات کی تفصیلات طلب کرلیں

اسلام آباد کی مقامی عدالت نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ سمیت 10 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کرتے ہوئے مقدمات کا ریکارڈ طلب کرلیا۔
اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کامران بشارت مفتی کی عدالت میں چیئرمین تحریک انصاف کے خلاف مختلف مقدمات کی سماعت ہوئی۔اس موقع پرسابق وزیراعظم عمران خان اپنے وکیل بابر اعوان کے ساتھ عدالت پیش ہوئے۔
یہ بھی پڑھیے
عمران خان لانگ مارچ میں بدنظمی کے ذمےدار قرار، 12رہنماؤں کی عبوری ضمانت
سپریم کورٹ میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حق اور مخالفت میں درخواستیں جمع
عمران خان کی عدالت میں پیشی کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے جبکہ دیگر سائلین کا عدالت میں داخلہ بند کر دیا گیا تھا۔
عمران خان کے خلاف لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ سمیت مختلف معاملات کے حوالے سے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے تھانہ آب پارہ، آئی نائن،کوہسار، کراچی کمپنی ،گولڑہ ،ترنول اور تھانہ سیکریٹریٹ میں پولیس نے10 مقدمات درج کئے گئے تھے۔
درخواست ضمانت کی سماعت کے دوران وکلاء نے عبوری ضمانت کے حق میں دلائل دیے۔بعد ازاں عدالت نے اس معاملے پر فیصلہ سناتے ہوئے پانچ پانچ ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض عمران خان کی 10 مقدمات میں عبوری ضمانت منظور کر لی ۔
عدالت نے پولیس کو عمران خان کی گرفتاری سے روک دیا اور مقدمات کا ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سماعت6 جولائی تک کیلئے ملتوی کردی۔









