حکومت نے سی پیک کے تحت کراچی سرکلر ریلوے کی تکمیل پر نظریں جما لیں

وفاقی وزیر خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کے سی آر منصوبے کی تکمیل کے لیے وفاق اور سندھ حکومت ایک پیج پر ہیں۔

کراچی: وفاقی وزیر ہوا بازی و ریلوے خواجہ سعد رفیق نے کہا ہے کہ کراچی سرکلر ریلوے (کے سی آر) کا منصوبہ ایک مہنگا منصوبہ ہے جس کی تکمیل کے لیے ہمیں منصوبے کو سی پیک کے ماتحت کرنا ہوگا۔ کے منصوبے کے حوالے سے وفاقی اور سندھ حکومتیں ایک پیج پر ہیں۔

ان خیالات کا اظہار وزیر ریلوے اور ایوی ایشن خواجہ سعد رفیق نے جمعہ کے روز کراچی میں سرکلر ریلوے (KCR) سے متعلق تبادلہ خیال اجلاس کے دوران کیا۔

یہ بھی پڑھیے

جاپانی بحری جہاز کا دورہ کراچی اور پاک بحریہ کے ساتھ مشترکہ مشق کا انعقاد

لانگ مارچ میں توڑ پھوڑ: عمران خان کی 10مقدمات میں ضمانت منظور

اجلاس میں وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی اور دیگر حکام نے شرکت کی، سی پیک کے تحت کے سی آر منصوبے کو تیز کرنے پر اتفاق کیا۔ وزیر ریلوے نے کے سی آر پروجیکٹ کو آگے بڑھانے کے لیے ایک کمیٹی بھی تشکیل دے دی ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا کہ کراچی سرکلر ریلوے ٹریک پر تجاوزات کو زبردستی نہیں ہٹانا چاہیے تھا، متاثرین کو بہترین معاوضہ دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں سڑکوں اور شاہراہوں کو تیار کرنے کی ملکی سطح ماہرین موجود ہیں ، مہارت موجود ہے لیکن ضروری سہولیات کے ساتھ ساتھ ٹرین کے پٹریوں کی ترقی کے حوالے سے بھی کمی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان ریلوے کی زمین کو ڈیجیٹائز کر دیا گیا ہے اور اب پاکستان ریلوے کی ملکیتی اراضی کی باآسانی نشاندہی کی جا سکے گی۔

سعد رفیق نے کہا کہ ریلوے کو پوری دنیا میں منافع بخش سروس کے طور پر چلانا ایک مشکل کام تھا کیونکہ یہ بھی پبلک ٹرانسپورٹ کی طرح کی سروس ہوتی ہے۔

انہوں نے واضح طور پر کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CEPC) کو دوبارہ پٹری پر لانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔

ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ان کے پاس صرف 12 ماہ کا محدود وقت ہے اور اس مختصر عرصے میں وہ پاکستان ریلوے کی سمت کو درست کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔

واضح رہے کہ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق نے گزشتہ روز ایم کیو ایم کے مرکز بہادرآباد کے دورے کے موقع پر بھی کراچی سرکلر ریلوے سے متعلق گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ایک مشکل کام ہے ، ہم چاہتے ہیں کہ سرکلر ریلوے کے متاثرین کو ایک بہتر متبادل ملنا چاہئے۔ سرکلر ریلوے کا منصوبہ سی پیک پروجیکٹ کا حصہ بنا دیاگیا ہے۔

وفاقی وزیر ریلوے کا کہنا تھا پوری دنیا میں نیشنل ریلوے اور میٹرو ٹرین کے علیحدہ علیحدہ کام ہوتے ہیں، ہمیں سپریم کورٹ کے احکامات کو بھی دیکھنا ہے، وزیراعظم صاحب کے چین کے دورے میں یہ معاملہ اولین حیثیت کا حامل ہوگا، ان تیرہ مہینوں میں ساری خرابیاں دور نہیں ہو سکتیں۔

متعلقہ تحاریر