گلگت بلتستان میں خودکشیوں کے واقعات خوفناک حد تک بڑھ گئے

ڈان نیوز کے مطابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان نے تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم کردی ہے

گلگت بلتستان کے ضلع غذر میں نوجوانوں میں خودکشی کے واقعات میں خوفناک حد تک اضافہ دیکھا جارہا ہے۔ وزیراعلیٰ جی بی نے خودکشی کے واقعات کی تحقیقات کیلئے 18 رکنی  کمیٹی قائم کردی ہے۔

انگریزی اخبارڈان نیوز کی ایک رپورٹ میں  بتایا گیا ہے کہ گلگت بلستان  کے علاقے غذر میں خودکشی کے واقعات تشویشناک حد تک بڑھ گئے ہیں۔وزیراعلیٰ جی بی نے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد کی سربراہی میں کمیٹی قائم کردی ہے جو ان واقعات کی تحقیقات کرے گی ۔

یہ بھی پڑھیے

ایڈیشنل کمشنر ریونیو کی پھندا لگی لاش فلیٹ سے بر آمد

وزیراعلیٰ جی بی کی قائم کردہ کمیٹی میں ارکان اسمبلی نوازخان ناجی، غلام محمد،پارلیمانی سیکرٹری برائے خواتین مس کنیز فاطمہ اور شعبہ ترقی نسواں کی چیئرپرسن صنم بی بی سمیت دیگر شامل ہیں

وزیراعلیٰ جی بی خالد خورشید خان نے سول سوسائٹی، والدین، علماء کرام اوراساتذہ سے اپیل کی کہ وہ اس لعنت سے نمٹنے میں حکومت کی مدد کریں۔

ان کا کہنا تھا کہ نوجوان ہماری قوم کا مستقبل اور قیمتی اثاثہ ہیں۔ ان میں خودکشی کا پھیلنا سب کیلئے تشویشناک ہے۔ ہمیں اس لعنت کو ختم کرنے کے لیے ملکر کام کرنا چاہیے۔

وزیراعلیٰ خالد خورشید نے کہا کہ ذہنی انتشار، تیزرفتار سماجی تبدیلی اورمالی مسائل جیسی متعدد وجوہات نے اس مسئلے میں کردار ادا کیا ہے۔

ڈان نیوز کی جانب سے شائع کیے گئے اعداد و شمار میں بتایا گیا ہے کہ  گزشتہ 5 سال میں تقربیاً 222 افراد نے خودکشی کی جبکہ رواں سال کے پہلے 6 ماہ میں غذر میں 15 نوجوان موت کو گلے لگاچکے ہیں۔

ڈان نیوز نے ایس ایس پی غذر شہمیر خالد کے حوالے سے لکھا کہ انہوں نے بتایا کہ رواں سال 19 خودکشیوں کے واقعات  رپورٹ ہوئے تاہم تحقیقات میں 4  قتل ثابت ہوئے ۔

ڈان نیوز کے مطابق  ماہرین نے کہا ہے کہ حکام کو ابھی تک اس مصیبت کی شدت کا اندازہ نہیں تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ خودکشی کے بہت سے واقعات پورے جی بی میں رپورٹ نہیں ہوتے ہیں کیونکہ خودکشی کے بہت سے واقعات کو غلط طور پر قتل یا حادثہ سمجھا جاتا ہے۔

غذرسے تعلق رکھنے والے ایک محقق عدنان علی شاہ نے کہا کہ خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی بڑی وجہ سماجی تبدیلی کی غیرمتزلزل رفتار ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ غذر میں "ذہنی صحت کی ایمرجنسی” کا اعلان کرنا چاہیے ۔

متعلقہ تحاریر