گلوکار علی ظفر کا سیاسی لیڈرشپ کو مالی قربانی کا مشورہ
پاکستان کے معروف گلوکار اور اداکار علی ظفر کا کہنا ہے اگر سیاست دان اپنی دولت کا 5 فیصد پاکستان کےلیے قربان کردیں تو پاکستان کو قرضے سے نجات مل جائے گی۔
پاکستان میں معیشت کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے تناظر میں معروف گلوکار اور اداکار علی ظفر نے پاکستانی سیاست دانوں کو معیشت کی بحالی میں اپنا حصہ ڈالنے کا مشورہ دے دیا ہے۔ علی ظفر کے مشورے کے بعد ٹوئٹر پر دلچسپ تبصروں کا سلسلہ چل نکلا ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام شیئر کرتے ہوئے گلوکار علی ظفر نے لکھا ہے کہ ” سیاسی رہنماؤں کو میرا عاجزانہ مشورہ ہے کہ وہ اپنی دولت کا 5 فیصد پاکستان کو عطیہ کریں تاکہ قوم ان کو دیکھ آگے آئے اور انہیں بھی ایسا کرنے کی ترغیب ملے۔”
یہ بھی پڑھیے
خوبرو اداکارہ تبو کے غیر شادی شدہ ہونے کی وجہ کون ہے ؟
ٹرولز نے عرفی جاوید کو میا خلیفہ کی بہن قرار دے دیا
علی ظفر نے مزید لکھا ہے کہ "اپ کی مثال سب کے لیے رہنمائی کا درجہ رکھتی ہے۔” یہ ایک سوچ ہے۔
My humble advice to political leaders. Donate 5 percent of your wealth to Pakistan to inspire the nation to come forward and do the same. Lead by example. #justathought
— Ali Zafar (@AliZafarsays) June 25, 2022
وقار احمد ٹوئٹر صارف نے علی ظفر کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "میری جان پاکستان میں ایسا ممکن نہیں ہے۔”
حسنین عابد نامی ٹوئٹر صارف نے گلوکار علی ظفر کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ” میں سمجھتا ہوں کہ ہم پاکستان کو قرضوں سے نکال سکتے ہیں اگر صرف سیاستدان ہی اپنی دولت کو 5 فیصد عطیہ کردیں۔”
گلوکار علی ظفر کے ٹوئٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے رائے حسن نے لکھا ہے کہ ” نہیں بھائی ہمارا قرضہ بہت زیادہ ہے۔ ہمارے ملک کو قرضوں کے اس شیطانی چکر سے نکالنے کے لیے ایلون مسک کو اپنی 70 فیصد دولت عطیہ کرنی ہوگی۔”
سید علی نے علی ظفر کو ٹیگ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ "جناب آپ کو سیاسی لیڈروں سے بہت زیادہ توقعات ہیں۔ تم بہت مشکل ہوگا انکی لیے، ہم خود ہی کچھ کریں گے ان شاء اللہ۔”
گلوکار علی ظفر کو ٹیگ کرتے ہوئے درشن راول نامی ٹوئٹر صارف نے لکھا ہے کہ ” یہ سچ ہے لیکن وہ یہ نہیں کریں گے کیونکہ انہوں نے یہ ساری دولت ریاست سے چوری کی ہے تو ہم کیسے امید کر سکتے ہیں کہ وہ عطیہ کریں گے۔”
واضح رہے کہ گذشتہ ماہ مرکزی بینک نے پاکستان کے ذمے قرضوں کے اعدادوشمار جاری کیے تھے جس کے مطابق پاکستان کے ذمے 45 ہزار 470 ارب روپے قرضے واجب الادا ہیں۔









