نیب قانون میں تبدیلی: کاروباری اور سرمایہ کار طبقے کا تحفظ کیسے ممکن؟
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کے رکن اور معروف قانون دان بیرسٹر محسن شاہ نواز رانجھا نے نیوز 360 کو بتایا کہ نئے نیب قانون میں کاروباری طبقے کو نیب سے آزاد کر دیا ہے۔
نیب قانون تبدیل ہو گیا، اب نیا کیا ہے اور کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں کا تحفظ کیسے ممکن ہوگا۔ نئے قانون کے تحت کسی بھی ترقیاتی منصوبے یا اسکیم میں بےقائدگی نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئے گی۔
قومی احتساب آرڈیننس 1999ء میں ترامیم سے نیب کا نیا قانون بن گیا ہے اس کے مطابق چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ کے بعد کا طریقہ کار وضع کر دیا گیا، چیئرمین نیب کی ریٹائرمنٹ پر ڈپٹی چیئرمین قائم مقام سربراہ ہوں گے، ڈپٹی چیئرمین کی عدم موجودگی میں ادارے کے کسی بھی سینئر افسر کو قائم مقام چیئرمین کا چارج ملے گا ، وفاقی یا صوبائی ٹیکس معاملات نیب کے دائرہ اختیار سے نکال دیے گئے۔
یہ بھی پڑھیے
کیا بجٹ منظوری کے بعد مفتاح اسماعیل کی چھٹی پکی ہے؟
پی ٹی آئی نے نیب ترامیم بل سپریم کورٹ میں چیلنج کردیں
مالی فائدہ نہ اٹھانے کی صورت میں وفاقی یا صوبائی کابینہ کے فیصلے نیب کے دائرہ اختیار میں نہیں آئیں گے، کسی بھی ریگولیٹری ادارے کے فیصلوں پر نیب کاروائی نہیں کر سکے گا، احتساب عدالتوں میں ججز کی تعیناتی 3 سال کے لیے ہوگی، احتساب عدالت کے جج کو ہٹانے کے لیے متعلق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے مشاورت ضروری ہوگی۔
نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 2 ماہ پہلے شروع کیا جائے گا، نئے چیئرمین نیب کے تقرر کے لیے مشاورت کا عمل 40 روز میں مکمل ہوگا، وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر میں اتفاق رائے نہ ہونے پر تقرر کا معاملہ پارلیمانی کمیٹی کو جائے گا۔
پارلیمانی کمیٹی چیئرمین نیب کا نام 30 روز میں فائنل کرے گی، چیئرمین نیب کی 3 سالہ مدت کے بعد اسی شخص کو دوبارہ چیئرمین نیب نہیں لگایا جائے گا، ڈپٹی چیئرمین کی تقرر کا اختیار صدر سے لے کر وفاقی حکومت کو دے دیا جائے۔
احتساب عدالتیں کرپشن کیسز کا فیصلہ ایک سال میں کریں گی، نیب انکوائری کے لیے نئے قانون کے تحت مدت کا تعین کر دیا گیا، نیب اب 6 ماہ کی حد کے اندر انکوئری کا آغاز کرنے کا پابند ہوگا، نیب گرفتار شدگان کو 24 گھنٹوں میں نیب کورٹ عدالت میں پیش کرنے پابند ہوگا، کیس دائر کرنے کے ساتھ ہی گرفتاری نہیں ہوسکتی، نیب گرفتاری سے پہلے کافی ثبوت کی دستیابی یقینی بنائے گا، نیب قانون میں ترمیم کرکے ریمانڈ 90 دن سے کم کرکے 14 دن کر رہے ہیں، نیب ملزم کے لیے اپیل کا حق 10 روز سے پڑھا کر 30 روز کر دیا گیا ہے۔
ملزم کے خلاف ریفرنس دائر ہونے تک کوئی نیب افسر میڈیا میں بیان نہیں دے گا، ریفرنس دائر ہونے سے قبل بیان دینے پر متعلقہ نیب افسر کو ایک سال تک قید اور 10 لاکھ تک جرمانہ ہو سکے گا، کسی کے خلاف کیس جھوٹا ثابت ہونے پر ذمہ دار شخص کو 5 سال تک قید کی سزا ہو گی، ٹیکس ،وفاقی صوبائی کابینہ کونسلز اسٹیٹ بنک کے فیصلے نیب اختیار سے باہر ہے۔
مالی فائدہ لینے کے ثبوت کے بغیر طریقہ کار کی خرابی پر نیب کاروائی نہیں ہو گی۔ وفاقی، صوبائی قوانین کے تحت بنی ریگولیٹری باڈیز کے کیسز پر نیب اختیار ختم کردیا گیا ہے۔ نئے قانون میں مقدمہ ثابت کرنے کی تمام ذمہ داری نیب پر ہوگی۔ نیب قانون میں محض گمان پر ملزم کو سزا کی شق ختم کردی گئی ۔ چیئرمین نیب ملزم کے فرار ہونے یا شہادتیں ضائع کرنے کے ٹھوس شواہد پر وارنٹ جاری کرسکیں گے۔ نیب افسران پر انکوائری یا انوسٹی گیشن کی تفصیل عام کرنے پر پابندی عائد کردی گئی ۔
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون کے رکن اور معروف قانون دان بیرسٹر محسن شاہ نواز رانجھا نے نیوز 360 کو بتایا کہ نئے نیب قانون میں کاروباری طبقے کو نیب سے آزاد کر دیا ہے۔ ماضی میں چین کے سرمایہ کاروں کو نیب قانون کے ذریعے ہراساں کیا جاتا رہا ہے۔ ملک کے معروف کاروباری حضرات اور شخصیات کو بھی نیب کے قانون کے تحت پریشان کیا گیا۔ اب ایسا نہیں ہوسکے گا اور ملک میں سرمایہ کاری کا ماحول بہتر ہوگا۔









