اوورسیزپاکستانیوں کےووٹ کاحق، ہائی کورٹ سے آئینی ترمیم کے خلاف درخواست مسترد
چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ کا کہنا ہے پارلیمنٹ کی قانون سازی کو بدنیتی نہیں کہا جا سکتا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے ووٹنگ کے طریقہ کار پر آئینی ترمیم کے خلاف درخواست مسترد کر دی۔عدالت عالیہ نے درخواست گزار کی جانب سے پارلیمنٹ کی قانون سازی کو بد نیتی قرار دینے پر برہمی کا اظہار کیا۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے مقدمہ کی سماعت کی۔ درخواست گزار وکیل نے ابتدائی دلائل پیش کئے۔ جس میں ان کا کہنا تھاکہ کہا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ووٹ کا حق تسلیم کیا جاتا ہے لیکن دیا نہیں جاتا، قیامت تک سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق نہیں دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھیے
پی ٹی آئی اور نون لیگ کی درخواست پر اسلام آباد میں بلدیاتی الیکشن ملتوی
ماحولیاتی آلودگی کا سبب بنے والی گاڑیوں کا اسلام آباد میں داخلہ بند
درخواست گزار کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ پارلیمنٹ نے بدنیتی سے سمندر پار پاکستانیوں کے ووٹ کا معاملہ دوبارہ صفر پر پہنچا دیا ہے۔
جس پر چیف جسٹس اطہر من اللّٰہ نے درخواست گزار کے وکیل پر اظہارِ برہمی کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی کو بدنیتی نہیں کہا جا سکتا۔
بیروں ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق کے معاملہ پر تحریری حکمنامہ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے جاری کیا جس میں عدالت عالیہ کا کہنا تھاکہ امید ہے الیکشن کمیشن آئینی ذمے داری پوری کرے گا۔
سپریم کورٹ نے واضح طور پر کہا ہے کہ آرٹیکل 17 کی تشریح کے مطابق سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ کا حق دیا گیا ہے، ووٹ کے حق کو 2017 کے ایکٹ کے ترمیم شدہ سیکشن 94 کے ذریعے تسلیم کیا گیا ہے، حکمنامہ میں کہا گیا کہ دونوں فیصلوں کا بغور جائزہ لیا گیا۔
سپریم کورٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق استعمال کرنے کا حقدار قرار دینے کے بعد ہدایت کی ہے کہ پائلٹ پراجیکٹس شروع کیے جائیں تاکہ اس طرح کی ووٹنگ کی تکنیکی افادیت، رازداری، سیکورٹی اور مالی امکانات” کا پتہ لگایا جا سکے۔









