ایک اور 12 سالہ دعا زہرہ کا حیدرآباد سے مبینہ اغواء اور نکاح

سندھ ہائی کورٹ نے درخواست نمٹاتے ہوئے تفتیشی افسر کو اپنی رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

دعا زہرہ کیس کے بعد سندھ ہائی کورٹ میں حیدرآباد سے اغواء ہوکر کراچی آکر شادی کرنے والی لڑکی اُم ہانی کا کیس سامنے آگیا ہے۔

سندھ ہائی کورٹ میں حیدرآباد کی لڑکی کے مبینہ اغواء اور جبری شادی کے کیس کی سماعت ہوئی۔

دوران سماعت لڑکی (اُم ہانی) اور لڑکا عدالت میں پیش ہوئے۔ اُم ہانی کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ میں نے اپنی مرضی سے شادی آفتاب علی سے شادی کی ہے۔ لڑکی نے بتایا کہ اسے کسی نے اغوا نہیں کیا۔

یہ بھی پڑھیے

کراچی سیلاب کے خطرات سے دو چار ، ریڈ الرٹ جاری کردیا گیا

عمر کے تعین کا معاملہ: دعا زہرہ کا شناختی کارڈ  اور دیگر کاغذات عدالت میں جمع

لڑکی کے والد نے موقف اختیار کیا کہ اُم ہانی کو 21 مئی کو حیدرآباد سے اغوا کیا گیا تھا۔ والد نے بتایا کہ لڑکی کی عمر 11 سال ہے۔ اغوا کے بعد اس کی شادی ہوئی ہے۔

اس پر عدالت نے لڑکی کے والد کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے سامنے گمشدگی کا کیس تھا، لڑکی عدالت میں پیش ہو چکی ہے، کیس میں مزید کچھ نہیں کر سکتے۔

والد نے عدالت میں بیان دیا کہ ان کی بیٹی چھٹی جماعت میں پڑھتی ہے، یہ لوگ مافیا ہیں اور یہ میری بیٹی کو بیچ دیں گے۔

اس پر عدالت نے ریمارکس دیئے کہ آپ کو جو بھی تحفظات ہیں، ٹرائل کورٹ میں جائیں اور وہاں پر بیان کریں۔

والد نے کہا کہ ہم عدالت سے انصاف نہیں مانگیں گے تو کہاں جائیں گے۔

عدالت نے ریمارکس دیئے کہ ہم نے بڑے کیسز میں ایسا نہیں کیا تو اس کیس میں کیسے کرسکتے ہیں ۔ سماعت کے دوران عدالت میں دعا زہرا کیس کا بھی ذکر ہوا۔

عدالت نے کہا کہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر کیس کو ہائی لائٹ کیا جا رہا ہے۔

لڑکی کے والد نے عدالت میں بچی کے اسکول اور امتحانی سرٹیفکیٹ بھی پیش کئے۔ اسکول سرٹیفکیٹ کے مطابق اُم ہانی کی تاریخ پیدائش 2010 ہے جبکہ نکاح نامہ میں لڑکی کی عمر 18 سال بتائی گئی ہے۔

لڑکی کے والد نے عدالت میں موقف اپنایا تھا کہ ان کی بیٹی کم عمر ہے اور سندھ چائلڈ میرج ریسٹرین ایکٹ2013 کے تحت  یہ شادی غیرقانونی ہے۔ تفتیشی افسر نے عدالت میں بیان ریکارڈ کرایا کہ لڑکی نے اغوا کیے جانے کی تردید کردی ہے۔

عدالت عالیہ نے درخواست نمٹاتے ہوئے تفتیشی افسر کو اپنی رپورٹ ٹرائل کورٹ میں جمع کرانے کا حکم دیدیا جبکہ  ٹرائل کورٹ  کو قانون کے مطابق  مناسب حکم جاری کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

متعلقہ تحاریر