پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ، کراچی کی سڑکوں 5 فیصد گاڑیاں کم ہو گئیں
ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل بھی کم ہو گئے ہیں۔
گزشتہ 16 سالوں کے دوران کراچی کی سڑکوں پر لاکھوں گاڑیاں کا اضافہ ہوا ہے ، جس میں موٹر سائیکل سے لے کر لینڈکروزر گاڑیاں بھی شامل ہیں ، رکشوں کی تعداد کا اندازہ ہی کیا لگایا جائے کیونکہ 75 فیصد سے زائد رکشے بغیر رجسٹریشن کے شہر قائد کی سڑکوں پر دوڑتے پھرتے دکھائی دیتے ہیں۔ تاہم ٹریفک کے اعلیٰ حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران کراچی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت میں 5 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پاکستانی قوم ویسے تو ٹریفک قوانین کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں ، اشارہ توڑنا موٹر سائیکل سوار اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں ، مگر وہ یہ نہیں سوچتے کے ان کا یہ عمل کسی بھی لمحے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے ، اکثر رکشہ ڈرائیور میں ٹریفک قوانین کی دھجیاں اڑاتے دکھائی دیتے ہیں ، بعض رشوت خور ٹریفک اہلکار ان قانون شکنیوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی جیبیں گرم کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
کراچی جیل میں الخدمت کے تعاون سے چینی زبان کی کلاسز کا آغاز
چین سے مزید 100 بسوں کی آمد، یکم جولائی سے کراچی کی سڑکوں پر نظر آئیں گی
گزشتہ روز نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے اعلیٰ ٹریفک حکام نے اس بات کا انکشاف کیا کہ کراچی کی سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت میں 5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔
جب ان سے سوال کیا گیا کہ اس کی کیا وجہ ہو سکتی تو انہوں بڑا واضح جواب تھا ، پیٹرول اور ڈیزل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے لوگوں کو گاڑیاں گھروں میں کھڑی کرنے پر مجبور کردیا ہے۔ زیادہ تر اب پبلک ٹرانسپورٹ پر سفر کرنا پسند کررہے ہیں، جو شخص سنگل گاڑی پر دفتر آتا جاتا تھا اب پیٹرول کی قیمت میں اضافے کے بعد عمومی طور پر بائیکیا یا اسی قسم کی دوسری سروسز استعمال کررہا ہے۔
ٹریفک پولیس کے اعلیٰ حکام کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر گاڑیوں کی کمی کی وجہ سے ٹریفک کے مسائل بھی کم ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا اب سندھ حکومت نے اچھی پبلک ٹرانسپورٹ متعارف کروا دی ہیں جس کی وجہ سے ذاتی گاڑیوں کے استعمال میں کمی آرہی ہے۔









