عمران خان نے روس یوکرین سوال پر بین الاقوامی صحافی کی کلاس لے لی
چیئرمین تحریک انصاف کا کہنا ہے یورپی دنیا اپنے مسئلے کو ہی کیوں مسئلہ سمجھتی ہے کشمیر ایشو پر کیوں بات نہیں کرتی ہے۔
جرمن ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان نے اینکر کی بولتی بند کروا دی ، چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ یورپ کو صرف یورپی ایشوز ہی کیوں نظر آتے ہیں آپ لوگ کشمیر پر بات کیوں نہیں کرتے۔ انہوں نے کہا میں پہلے کشمیر ایشو پر بات کروں گا کیونکہ یہ مسئلہ ہم سے جڑا ہوا ہے۔
ڈوئچے ویلے کے چیف انٹرنیشنل ایڈیٹر رچرڈ واکر نے عمران خان سے روس یوکرین جنگ پر سوال کیا ، جس پر سابق وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کاز پر بات شروع کردی ، اس پر ٹی وی اینکر نے عمران خان کو کشمیر کے ذکر سے روکنے کی کوشش کی اور کہا کہ آپ صرف دورہ روس پر بات کریں۔
ی بھی پڑھیے
پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ، کراچی کی سڑکوں 5 فیصد گاڑیاں کم ہو گئیں
شمالی وزیرستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی، تین دہشت گرد ہلاک
عمران خان نے ٹی وی اینکر کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ میں پہلے کشمیر کے مسئلے پر بات کروں گا ، یہ وہ مسئلہ جو ہم سے جڑا ہے۔
عمران خان کا جرمن میڈیا ڈی ڈبلیو کو انٹرویو : کشمیر پر بات کرنے سے اینکر نے ٹوک دیا ، ہم روس اور یوکرین پر بات کرتے ہیں ، دیکھئے عمران خان کا ڈی ڈبلیو کے صحافی کو جواب : "یہ بہت ضروری ہے ، میں پہلے کشمیر پر بات کروں گا، کیوں دوسرے لوگ ہمارے انسانی حقوق پر بات نہیں کرتے ،👇 pic.twitter.com/lipEGlSpXE
— Stoic (@law4all3) July 2, 2022
سابق وزیراعظم کا کہنا تھا مقبوضہ کشمیر کا معاملہ ہمارے لیے سب سے اہم ہے ، دوسرے لوگ ہمارے ایشوز اور انسانی حقوق کے معاملات پر فکرمند کیوں نہیں ہوتے کیوں آواز بلند نہیں کرتے ، ہم صرف یورپی مسائل کی ہی مذمت کیوں کرتے ہیں؟ ہمیں توازن برقرار رکھنے کی ضرورت ہے۔
عمران خان نے جرمن ٹی وی اینکر رچرڈ واکر پر غصہ کرتے ہوئے کہا آپ لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں جو ایشو آپ کا نہیں ہوتا اس پر آپ بات نہیں کرتے۔
روس یوکرین جنگ سے متعلق سوال پر عمران خان کا کہنا تھا میرا دورہ روس تمام اسٹیک ہولڈر کی مشاورت سےطے شدہ تھا جنگ تو بعد میں شروع ہوئی تھی۔ ہم روس سے تیل ، گیس اور دیگر اجناس خریدنے کا سوچ رہے تھے۔
ایک سوال کے جواب میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا روس یوکرین جنگ میں پاکستان کسی کی طرف داری نہیں کرسکتا ہے کیونکہ ایک کی طرف داری کا مطلب ہے دوسرے کی مخالفت۔









