مودی کے غیرقانونی احکامات کے خلاف ٹوئٹر نے عدالت سے رجوع کرلیا
ٹوئٹر نے انڈین حکومت کی جانب سے مودی مخالف اکاؤنٹس معطل اور ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کے احکامات کوعدالت میں چیلنج کیا ہے

مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر کی انتظامیہ نے بھارتی حکومت کے خلاف مقدمہ درج کروادیا ہے۔ بھارتی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر انتظامیہ کو کچھ اکاؤنٹس معطل اور ڈیٹا دیلیٹ کرنے کے احکامات کے بعد ٹوئٹر نے بھارتی حکومت کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا ہے ۔
بین الاقوامی خبررساں ادارے کے مطابق ٹوئٹرانتظامیہ نے انڈین حکومت کی جانب سے مودی مخالف اکاؤنٹس معطل اور ڈیٹا ڈیلیٹ کرنے کے احکامات کو عدالت میں چیلنج کیا ۔
یہ بھی پڑھیے
مقبوضہ وادی میں بھارتی افواج کی بربریت، 6 ماہ میں 140 کشمیری شہید کردیئے
بھارتی حکومت نے معطل اکاؤنٹس کو بحال کرنے پر ٹو ئٹر ملازمین کو جرمانے اور سات سال تک قید کی سزا دینے کی دھمکی بھی دی ہے ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت کی جانب سے ٹوئٹر کے خلاف جو ہدایات اور احکامات دئیے گئے ہیں وہ قانونی طور پر جائز نہیں ہیں۔
ٹوئٹر کی جانب سے بھارتی حکومت کے خلاف کرناٹک ہائی کورٹ میں درخواست دائرکی گئی ہے جس میں بھارتی حکومت کے احکامات کو چیلنج کیا گیا ہے ۔
یہ بھی پڑھیے
نوپور شرما کی گستاخانہ وڈیو سامنے لانے والا مسلمان صحافی بھونڈے مقدمے میں گرفتار
واضح رہے کہ مائیکرو بلاگنگ سائٹ ٹوئٹر اور بھارتی حکومت طویل عرصے سے مختلف تنازعات میں الجھے رہے ہیں۔ گزشتہ سال بھارت نے کسانوں کے احتجاج کی حمایت کرنے والے اکاؤنٹس کو ڈیلیٹ کرنے کا کہا تھا تاہم ٹوئٹر نے انکار کردیا تھا۔
بھارت میں نئے ڈیجیٹل قوانین کے تحت مائیکرو بلاگنگ کی سائٹ ٹوئٹر کے خلاف لگاتار مقدمات درج کیے جارہے ہیں جبکہ مودی حکومت مسلسل سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی بلیک میل کررہی ہے۔









