عید قربان پر پشاور منڈی میں گاہک حیران و پریشان
نیوز 360 سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے گاہکوں کا کہنا ہے کمر توڑ مہنگائی میں مہنگا جانور خریدنے کی ان میں سکت نہیں۔
ملک میں جاری بدترین مہنگائی میں عید قربان کیلئے جانور خریدنا کافی مشکل ہوگیا ہے. صوبائی دار الحکومت پشاور رنگ روڈ پر لگی منڈی جہاں گاہک کئی کئی چکر کاٹنے کے باوجود قربانی کا جانور خریدنے سے قاصر ہیں ان کا کہنا ہے جانوروں کی قیمتیں سن کر ہم حیران و پریشان ہیں۔
قیمتوں کا پوچھتے ہی خریداروں کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں عید الاضحٰی میں ایک دن رہ گیا ہے جہاں پشاور سمیت دوسرے منڈیوں میں ملک کے مختلف حصوں سے چھوٹے بڑے جانور لائے گئے ہیں تاہم قیمتیں گزشتہ سال کی نسبت دوگنی ہوگئی ہے۔
نیوز 360 کے نامہ نگار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے منڈی میں خریداروں کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے ہماری کمر توڑ کر رکھ دی ہیں. اشیاء خورونوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہے اوپر سے قربانی کیلئے جانور خریدنا بھی کافی مشکل ہوگیا ہے کیونکہ قیمتیں دوگنی ہوگئی ہے.
جانور کی قیمتوں میں اضافے کی ایک وجہ پڑوسی ملک افغانستان سے دنبوں کی درآمد پر پابندی بھی ہے. اسی حوالے سے گزشتہ ہفتہ پاک افغان بارڈر طورخم پر افغان حکومت اور پاکستان حکام اور مقامی مشران کے مابین فلیگ شپ میٹنگ منعقد ہوئی تھی ، جس کے بعد پاکستان وفد افغان طالبان حکومت کے ساتھ مذاکرات کیلئے افغانستان تشریف لے گئے تھے۔
بعد ازاں افغان حکومت نے پانچ ہزار دنبوں کی درآمداد کی اجازت دے دی لیکن پاکستان کسٹم حکام کے مطابق دونبوں کو تاحال پاک افغان بارڈر پر کورنٹین کی غرض سے روکا ہوا ہیں جو دو ہفتے بعد اجازت دی جائیگی.
خریداروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت نے جانور تو بھیج دیئے ہیں ، مگر پاکستانی حکام نے انہیں باڈر پر روک رکھا ہے ، اور کہا جارہا ہے کہ دو ہفتے بعد جانوروں کو پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دی جائے گی۔
ان کا مزید کہنا ہے کہ عید میں ایک دن رہ گیا تو ہفتے بعد اگر جانور آئیں گے تو کون خریدے گا۔ ہماری حکومت سے درخواست ہے کہ وہ فوری طور پر اس مسئلے کا حل نکالے تاکہ جانوروں کی قیمتوں میں کمی ہو سکے اور انہیں جانور خریدنے میں آسانی ہو سکے۔









