طیبہ گل کا الزام: وزیر اعظم تاحال جاوید اقبال کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام

طیبہ گل کو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں اپنے کیس کو اٹھائے ہوئے دو دن گزر گئے ہیں تاہم وزیراعظم شہباز شریف مسنگ پرسنز کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کے خلاف کوئی کارروائی کرنے میں ناکام ہیں۔

پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کی جانب سے طیبہ گل کیس اٹھائے جانے کے دو دن بعد بھی وزیراعظم شہباز قومی احتساب بیورو (نیب) کے سابق چیئرمین اور مسنگ پرسنز کمیشن کے سربراہ جاوید اقبال کے خلاف تاحال کوئی بھی کارروائی کرنے میں ناکام دکھائی دے رہے ہیں۔

طیبہ گل نامی خاتون نے الزام لگایا تھا کہ انہیں 45 دن تک سابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعظم ہاؤس میں رکھا تھا ، کیونکہ ڈر تھا کہ میں سابق چیئرمین نیب کے خلاف ثبوت جیو نیوز کو فراہم کردوں گی ، کیونکہ نیب کے سابق سربراہ نے میر شکیل الرحمان کو گرفتار کررکھا تھا ، اس نے الزام لگایا کہ اسے گھر میں یرغمال بنایا گیا اور اس سے اس کا موبائل فون بھی چھین لیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

حکومت کی چیف الیکشن کمشنر پر مہربانیاں، رباب سکندر کسٹمز میں اعلیٰ عہدے پر تعینات

پی ٹی وی کی اینکر زریاب راجپوت سیاسی انتقام کا نشانہ بن گئیں؟

طیبہ گل نے الزام لگایا کہ سابق وزیر اعظم نے جاوید اقبال کے خلاف ان سے ویڈیوز حاصل کیں اور ان ویڈیوز کے ذریعے جاوید اقبال کو بلیک میل کر کے پی ٹی آئی کے پارٹی رہنماؤں کے خلاف نیب کیسز ختم کرائے ، سابق وزیراعظم عمران خان نے انہیں (طیبہ گل) کو مکمل انصاف فراہم کرنے کا وعدہ کیا۔

طیبہ گل کے الزامات کے بعد پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے وزیر اعظم شہباز شریف سے جسٹس (ریٹائرڈ) جاوید اقبال کو مسنگ پرسنز کمیشن کے چیئرمین کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی ہے۔

جبری گمشدگیوں پر انکوائری کمیشن 2011 میں قائم کیا گیا تھا اور جاوید اقبال ، جو کچھ عرصہ پہلے تک قومی احتساب بیورو (نیب) کے چیئرمین بھی تھے، تب سے اس کی سربراہی کر رہے ہیں۔

ڈان نیوز کے مطابق 2019 میں طیبہ گل ایک مبینہ ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تھا جس میں اس کے اور جاوید اقبال کے درمیان مبینہ خفیہ اور ناجائز تعلقات کو دکھایا گیا تھا۔

اس سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد طیبہ گل اور ان کے شوہر محمد فاروق کو نیب میں انکوائری کا سامنا تھا۔ بعد ازاں نیب نے ان کے خلاف لاہور کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا تھا۔

گزشتہ ماہ یہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ طیبہ گل نے پی اے سی کے چیئرمین نور عالم خان کے پاس ایک درخواست جمع کرائی تھی، جس میں جاوید اقبال، نیب لاہور کے ڈی جی ریٹائرڈ میجر شہزاد سلیم اور ادارے کے دیگر افسران کے خلاف انکوائری کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

سابق چیئرمین نیب جاوید اقبال کو رواں ہفتے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں طلب کیا گیا تاہم وہ کمیٹی کے سامنے پیش نہیں ہوئے تھے۔

نور عالم خان کی سربراہی میں پی اے سی کے سامنے طیبہ گل کے انکشافات کو دو روز گزر گئے ہیں تاہم وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے ابھی تک جاوید اقبال کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔

نیوز 360 کو اعلیٰ صحافتی حلقوں نے بتایا کہ اس معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کی خاموشی بے معنی نہیں کیونکہ وہ جاوید اقبال کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ ان کا کہنا تھا کہ جاوید اقبال کو چند طاقتور شخصیات کی پشت پناہی حاصل ہے جس نے موجودہ حکومت کو ان کے عہدے سے ہٹانے کے بعد ان کے خلاف سخت کارروائی کرنے سے روک دیا۔

متعلقہ تحاریر