آئی ایم ایف سے قرض کی راہ ہموار ہونے کے باوجود روپے کی گراوٹ تشویشناک

معاشی ماہرین  نے آئی ایم ایف سے معاہدے کے باوجود روپے کی مقابلے میں ڈالر کو مزید توانا ہوتا دیکھ کر اسے انتہائی تشویشناک عمل  قرار دیا

پاکستانی روپے کے مقابلے میں  امریکی ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ آج انٹربینک میں ڈالر ایک روپے 15 پیسے مہنگا ہوکر 210 روپے 95 پیسے پر بند ہوا ۔ گزشتہ ماہ جون کی 22 تاریخ کو ڈالر  بلند ترین سطح پر بند ہوا تھا ۔

 بین الاقوامی مالیاتی جریدے بلوم برگ  کے مطابق پاکستان  اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان اسٹاف لیول پر قرض کی فراہمی کے لیے معاہدہ طے پاگیا ہے  جس کے تحت آئی ایم ایف پاکستان کو اگست کے شروع میں 1.2 بلین ڈالر کا قرض فراہم کرے گا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول پر معاہدہ طے پاگیا، بلومبرگ

بلوم برگ کے مطابق اس معاہدے کی تکمیل سے حکومت پاکستان کو بڑا ریلیف ملے گا ، جس کے موجودہ زرمبادلہ کے ذخائر دو ماہ سے بھی کم درآمدات کے ہدف کو پورا کر سکتے ہیں جبکہ  مہنگائی 13 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔

آئی ایم ایف  حکام نے  پاکستان سے قرض کے معاہدے  کی تصدیق کی تاہم شرائط بتانے سے پہلو تہی کی جبکہ  وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل  بھی معاہدے کی شرائط قوم کو بتانے سے گریزاں ہیں۔

آئی ایم ایف  سے معاہدے کے بعد  پاکستان کو 1.17 ارب ڈالر کی قسط کی راہ ہموار ہوگی ہے مگر اس کے باوجود روپے کی مقابلے میں ڈالر مزید توانا ہوتا جا رہا ہے جوکہ ایک تشویشناک عمل ہے ۔

تجزیہ  کاروں کے مطابق پاکستان میں ڈالر کی قدر میں اضافے اور اس کی اوپن مارکیٹ میں عدم دستیابی کا براہِ راست تعلق بین الاقوامی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ساتھ قرض کے حصول کے لیے حال ہی میں طے پانے والے معاہدے سے ہے۔

معاشی ماہرین کا ایک طبقے کاکہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے علاوہ دیگر کئی عوامل بھی روپے کی قدر میں حالیہ کمی اور ڈالر کی قیمت اور مانگ میں اضافے کا باعث بن رہے  ہیں۔

متعلقہ تحاریر