پاکستان ان ایک درجن ریاستوں میں شامل ہے جو ڈیفالٹ کرسکتی ہے، رائٹرز
بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق نئی حکومت تیزی سے اخراجات کم کرنا ہوں گے کیونکہ وہ اپنی آمدنی کا 40 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ کرتی ہے۔
لندن: پاکستان اور کچھ ترقی پذیر ممالک اس وقت شدید معاشی بحران کا شکار ہیں ، جن کی بنیادی وجوہات میں کرنسی کا کریش کرنا ، زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی اور اسٹاک ایکسچینج کا کریش کرجانا روایتی آثار میں شامل ہے۔
بین الاقوامی جریدے کی رپورٹ کے مطابق لبنان ، سری لنکا ، روس ، سورینام اور زیمبیا پہلے ہی ڈیفالٹ کرچکے ہیں۔ بیلاروس کے ڈیفالٹ ہونے کے حوالے سے خطرے کی گھنٹی بج گئی ہے جبکہ کم از کم ایک درجن سے زائد ممالک ڈیفالٹ کے دہانے پر کھڑے ہیں۔ قرض کی وجہ سے بڑھتے ہوئے اخراجات ، مہنگائی اور قرض پر سود سبھی معاشی تباہی کے خدشات کو جنم دیتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
ملک میں گاڑیوں کی فروخت بلندترین سطح پر پہنچ گئی
شہباز شریف حکومت میں مہنگائی کی شرح میں 33 فیصد اضافہ ریکارڈ
پاکستان ان ترقی پذیر ممالک میں شامل ہے جوکہ اس وقت شدید مالی بحران سے گزر رہے ہیں ، اور قریب ہے کہ اس کی معیشت مکمل طور پر کریش کرجائے گی۔ درد بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ترقی پذیر ممالک اس وقت 400 ارب ڈالر کے قرضوں کے نتچے ہیں۔
ارجنٹینا کے قرضوں کی حد 150 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی ہے ، جبکہ اگلے نمبر پر ایکواڈور اور مصر ہیں جن پر 40 بلین ڈالر اور 45 بلین ڈالر قرضے بالترتیب ہیں۔
معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے عالمی مارکیٹیں پرسکون رہنے اور آئی ایم ایف کی امداد کے باوجود بہت سے ممالک اب بھی ڈیفالٹ کرسکتے ہیں۔
پاکستان: پاکستان نے رواں ہفتے آئی ایم ایف کے ساتھ ایک نئے اور اہم معاہدے پر دستخط کیے ہیں ، یہ پیش رفت زیادہ دیر تک کارآمد ثابت نہیں ہوسکتی ، بین الاقوامی مارکیٹ میں ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے ادائیگیوں کے توازن کو بری طرح سے متاثر کیا ہے۔
پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 9.8 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں، جو پانچ ہفتوں کی درآمدات کے لیے شاید ہی کافی ہوں۔ پاکستانی روپیہ ڈالر کے مقابلے میں تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گیا ہے ، نئی حکومت کو اخراجات میں کمی کے لیے نئی حکمت عملی ترتیب دینا ہوگی کیونکہ پاکستان کو اپنی آمدنی کا 40 فیصد سود کی ادائیگی پر خرچ کرناپڑتا ہے۔
ارجنٹینا: دنیا میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور قرضوں کی وجہ سے بہت ممالک ڈیفالٹ کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ پیسو اب بلیک مارکیٹ میں تقریباً 50 فیصد کی رعایت پر تجارت کررہا ہے ، زرمبادلہ کے ذخائر میں تیزی سے کمی آرہی ہے ، بانڈز کی تجارت ڈالر میں صرف 20 فیصد ہورہی ہے، جوکہ 2020 میں قرضوں کے حصول کے بعد سے نصف سے بھی کم ہو گئی ہے۔
حکومت کے پاس 2024 تک خدمت کے لیے کوئی خاطر خواہ قرض کی سہولت موجود نہیں ہے، اور خدشات پیدا ہو گئے ہیں کہ طاقتور نائب صدر کرسٹینا فرنانڈیز ڈی کرچنر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ سے دستبردار ہو سکتی ہیں۔
یوکرین: مورگن اسٹینلے اور امونڈی جیسے بڑے سرمایہ کاروں نے خبردار کیا ہے کہ روسی حملے کے بعد یوکرین کو اپنی بحالی کے لیے 20 بلین ڈالر قرضے کی ضرورت پیش آسکتی ہے۔
بحران اس وقت آنا شروع ہوا تھا جی ستمبر میں 1.2 بلین ڈالر کے بانڈ کی ادائیگیاں باقی تھیں۔ امدادی رقم اور ذخائر سے اندازہ لگایا جاسکتا تھا کہ کیف ممکنہ طور پر ادائیگی کر سکتا ہے۔ لیکن اس ہفتے سرکاری طور پر چلنے والے نفتوگاز نے دو سال کے قرضوں کو منجمد کرنے کا مطالبہ کردیا تھا ، سرمایہ کاروں نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شبہ ظاہر کیا ہے کہ حکومت اس کی پیروی کرے گی۔
تیونس: آئی ایم ایف کے پاس جانے والے افریقہ ملک تیونس کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات بہت زیادہ بڑھ گئے ہیں کیونکہ ملک کا بجٹ خسارہ 10 فیصد سے بڑھ گیا ہے۔ صدر قیس سعید نے اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے آئی ایم ایف سے سخت شرائط پر قرض حاصل کیا تھا۔
گھانا: آئی ایم ایف سے بڑے قرضے لینے سے گھانا کا قرض سے جی ڈی پی کا تناسب تقریباً 85 فیصد تک بڑھ گیا ہے۔ جبکہ ملکی کرنسی اپنی قدر کا تقریباً ایک چوتھائی کھو چکی ہے اور یہ پہلے ہی قرض کے سود کی ادائیگیوں پر ٹیکس محصولات کا نصف سے زیادہ خرچ کر رہی تھی۔ مہنگائی بھی 30 فیصد کے قریب پہنچ گئی ہے۔
مصر: آئی ایم ایف سے حاصل شدہ قرض ملکی جی ڈی پی کا تناسب 95 فیصد کے قریب ہے ، رواں سال سود کی مد میں ایک بڑی رقم کی ادائیگی کرنا ہوگی ، جے پی مورگن کے مطابق رواں سال مصر کو 11 بلین ڈالر پے کرنے ہیں اور اگلے پانچ سالوں میں 100 بلین ڈالر پے کرنے ہیں جبکہ 2024 میں 3.3 بلین ڈالر کا میٹی بانڈ بھی شامل ہے۔
کینیا: کینیا تقریباً 30 فیصد محصولات سود کی ادائیگیوں پر خرچ کرتا ہے۔ اس کی کرنسی کی قدر میں تقریباً نصف فیصد کم ہوگئی ہے جبکہ 2024 میں آنے والے 2 بلین ڈالر بانڈ کو مسئلہ ہے۔
ایتھوپیا: ادیس ابابا جی 20 کامن فریم ورک پروگرام کے تحت قرضوں میں ریلیف حاصل کرنے والے پہلے ممالک میں سے ایک بننے کا ارادہ رکھتا ہے۔ تاہم ملک کی جاری خانہ جنگی کی وجہ سے قرض کی پیشرفت روک دی گئی ہے حالانکہ اس دوران یہ اپنے 1 بلین ڈالر کے واحد بین الاقوامی بانڈ کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہے۔
ایل سلواڈور: بٹ کوائن کو قانونی حیثیت دینے کے بعد آئی ایم ایف ایل سلواڈور پر قرض کے دروازے بند کر دیےہیں۔
بیلاروس: مغربی پابندیوں کی وجہ سے گزشتہ ماہ روس کو ڈیفالٹ ممالک کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے جبکہ بیلاروس بھی اسی فہرست میں شامل ہے جو یوکرین کے خلاف مہم میں ماسکو کے ساتھ کھڑا تھا۔
ایکواڈور: لاطینی امریکی ملک نے صرف دو سال قبل ڈیفالٹ کیا تھا لیکن پرتشدد مظاہروں اور صدر گیلرمو لاسو کو معزول کرنے کی کوششوں نے اسے دوبارہ بحران میں ڈال دیا ہے۔
نائیجیریا: افریقی ملک نائیجیریا کی اسٹاک ایکسچینج صرف 1000 پوائنٹس پر ٹریڈ کررہی ہے ، نائیجیریا کو اگلے ایک سال کے دوران 500 ملین ڈالر کی ادائیگی کرنا ہے جو وہ آسانی سے کرسکتا ہے کیونکہ اس کے زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری آرہی ہے ، اگرچہ حکومتی محصولات کا تقریباً 30 فیصد سود کی مد میں خرچ ہوجاتا ہے۔









