پولیس ظہیر احمد کو گرفتار کرسکتی تھی مگر اسے آزاد کیا گیا، جبران ناصر
جبران ناصرنے کہا کہ 6 جون اور 2 جولائی کو پولیس ظہیر کوگرفتار کرسکتی تھی مگر حکام نے جانبداری برتے ہوئے بطورگواہ بیان ریکارڈ کروانے کے بعد ظہیر احمد کو آزاد کردیا

دعا زہرا کے والد مہدی کاظمی کے وکیل جبران ناصر کا کہنا ہے کہ پولیس ظہیر احمد کو گرفتار کرسکتی تھی تاہم پولیس نے اسے آزاد کرنے کا انتخاب کیا حالانکہ کے کال ڈیٹا ریکارڈ سے پہلے دن ہی اغوا کا کیس بننا تھا مگر پولیس نے کیس کو سی کلاس کردیا ۔
ٹوئٹرپراپنے پیغام میں جبران ناصر نے کہا کہ دو موقعوں پر6جون اور2 جولائی کو پولیس ظہیرکو گرفتار کرکے اس سے پوچھ گچھ کرسکتی تھی مگر حکام نے جانبداری برتے ہوئے بطور گواہ بیان ریکارڈ کروانے کے بعد ظہیر احمد کو آزاد کردیا جبکہ ظہیر کے کال ڈیٹا ریکاڑد نے پہلے دن ہی اغوا کا انکشاف کردیا تھا مگر پولیس نے کیس کا چالان سی کلاس کرکے پیش کیا ۔اس کا ذمہ دار کون ؟ ۔
یہ بھی پڑھیے
48 گھنٹے گزرنے کے باوجود سندھ اور پنجاب پولیس ظہیر احمد کی گرفتاری میں ناکام
جبران ناصر نے کہا کہ آج پولیس ظہیر احمد کو گرفتار کرنے اور دعا زہرا کی بازیابی کے لیے کوششیں کررہی ہے اگر بچی کو نقصان ہوا تو اس کا ذمہ دار کون ہوگا ؟۔اگر پولیس نے پہلے دن اپنی تفتیش صحیح طریقے سے کی ہوتی تو والدین کو تکلیف نہ ہوتی۔ عدالتوں کو بچوں کی حفاظت کے لیے ایس او پیز بھی تیار کرنا ہوں گے۔
On two occasions 6 Jun & 2 July Police could have arrested Zaheer & interrogated him, instead Police chose to record his statement as a witness on and let him free, Zaheer CDR revealed on Day 1 about kidnapping but Police submitted Challan under C Class. Who is responsible?…
— M. Jibran Nasir 🇵🇸 (@MJibranNasir) July 18, 2022
مہدی کاظمی کے وکیل نے کہا کہ یہ صرف دعا کے والدین عزم اور ہمت نہ ہارنے اور میڈیا کی تحقیقاتی صحافت سے کیس نے 180 ڈگری کا رخ اختیار کر لیا ہے اور پولیس کو کارروائی پر مجبور کیا گیا ہے۔ کیا اب ہمارا نظام انصاف والدین کی مرضی اور میڈیا پر منحصر ہے؟۔
جبران ناصر نے کہا کہ پولیس نے کیس میں افسوسناک روریہ اختیارکیا ۔ایک یہ کہ زیر تفتیش دعا زہرا کیس میں تفتیش کے لیے کچھ نہیں ہے جبکہ دوسرا کیس میں ہونے والے مبینہ اخراجات کی تفصیلات جاری کرنا۔ کیا کیس کو ذمہ داری سمجھا جا رہا تھا؟ اس کیس کے یہ حقائق اصلاح کا متقاضی ہیں۔
یاد رہے کہ لاہور ہائی کورٹ کی بہاولپور بینچ نے کم عمر لڑکی دعا زہرا سے شادی کرنے والے ظہیر احمد کی ضمانت مسترد کردی تھی ۔

واضح رہے کہ دعا زہرہ کی کم عمری میں شادی کا معاملے وزیراعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی سلمان صوفی نے پنجاب پولیس کو دعا زہرہ کے شوہر ظہیر احمد کی گرفتاری کا حکم دیا تھا تاہم 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود دونوں صوبوں کی پولیس ظہیر احمد کو گرفتار کرنے میں ناکام ہے۔
سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی سلمان صوفی نے لکھا ہے کہ دعا زہرہ کیس کے مرکزی ملزم ظہیر احمد کی گرفتاری کے لیے سندھ پولیس نے درخواست دی ہے۔
خیال رہے کہ نیوز360 نے 13جولائی کو اپنے ذرائع سے ایک اہم خبردی تھی کہ دعا زہرہ کے اغواء میں گوگا گینگ ملوث ہے جو کم عمر بچوں اور بچیوں کو ورغلا کر اغوا کرتا ہے اور ان بچوں اور بچیوں کو بیرون ملک اسمگل کردیتا ہے، دعا کیس میں گوگا گینگ نے ظہیر احمد کو مہرےکے طور پر استعمال کیا ہے۔









