خاتون رکن اسمبلی کو ہراساں کرنے پر رانا ثنا اللہ کے خلاف مقدمہ درج
لاہور ہائی کورٹ کی حکومت کو پی ٹی آئی کی رکن پنجاب اسمبلی زینب عمیر کو رانا ثناء اللہ کی جانب سے ہراساں کرنے پر جواب جمع کروانے کی ہدایت

وفاقی وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ پر تحریک انصاف کی خاتون رکن پنجاب اسمبلی زینب عمیر کو ہراساں کرنے کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ہے ۔
لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والی خاتون رکن پنجاب اسمبلی زینب عمیر کو مبینہ طور پر وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کی جانب سے ہراساں کرنے کے کیس میں پنجاب حکومت کو جواب جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
خاتون اینکر کو ہراساں کرنیکا ملزم پی ٹی وی میں ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ بن گیا
لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عالیہ نیلم نے رکن صوبائی اسمبلی زینب عمیر کو رانا ثنا اللہ کی جانب سے ملنے والے واٹس اپ پیغامات کو طلب کرتے ہوئے اسے بھی کیس کا حصہ بنانے کی ہدایت کی ۔
سماعت کے دوران جب درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی موکلہ پر دباؤ ڈالا جارہا ہے کہ وہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں پارٹی (پی ٹی آئی) کے خلاف ووٹ ڈالیں جس پر عدالت نے انہیں سپریم کورٹ جانے کا مشورہ دیا ۔
درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ یہ سب وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ کررہے ہیں تو جسٹس عالیہ نیلم نے انہیں سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کرنے کی ہدایت کی ۔
انہوں نے مزید کہا کہ پی ٹی آئی ایم پی اے کو ان کے واٹس ایپ نمبر پر دھمکی آمیز پیغامات موصول ہوئے ہیں۔ اس لیے حکومت کو حکم دیا جائے کہ وہ اس حوالے سے اپنی پوزیشن واضح کرے۔
درخواست کی مخالفت کرتے ہوئے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے موقف اختیار کیا کہ یہ سماعت کے لیے ناقابل سماعت ہے۔فاضل جج نے جواب دیا کہ کیس میں صوبائی حکومت کو جواب دینے دیں، اس کے بعد عدالت دیکھے گی۔









