اتحادی حکومت نے نیب کے ملزم کو ہی چیئرمین نیب بنا دیا

عمران خان کے دور حکومت نے نیب نے نئے چیئرمین نیب آفتاب سلطان کے خلاف اختیارات کے تجاوز کا ریفرنس دائر کیا تھا۔

چٹ بھی میری پٹ بھی میری محاورے پر عملدرآمد کرتے ہوئے موجودہ اتحادی حکومت نے انٹیلی جنس بیورو کے سابق ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان کو قومی احتساب بیورو (نیب) کا چیئرپرسن مقرر کرنے کی منظوری دے دی ہے جوکہ خود نیب کو کیسز میں مطلوب رہے ہیں۔

وزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا جس میں سابق ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان کو نیب کا نیا چیئرمین بنانے کی منظوری سمیت مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیے

فضل الرحمان نے پی ٹی آئی کو فضا اور زمین تنگ کرنے کی دھمکی دے دی

آفتاب سلطان کا نام پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) نے تجویز کیا تھا۔ وہ اس سے قبل پنجاب پولیس کے انسپکٹر جنرل اور نیشنل پولیس اکیڈمی کے کمانڈنٹ کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

یاد رہے کہ سابق وزیراعظم میاں نواز نے ریٹائرڈ پولیس آفیسر آفتاب سلطان کو اپنے دور حکومت میں تین مرتبہ ڈی جی آئی بی کے عہدے پر توسیع دی تھی ، آفتاب سلطان کو میاں نواز شریف کا مکمل اعتماد حاصل تھا ۔

Aftab Sultan Chairman NAB

تاہم سابق دور حکومت (پاکستان تحریک انصاف کے دور) میں میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کے دیگر رہنماؤں کے خلاف نیب نے کارروائیاں شروع کی تھی۔ اس دوران نیب نے سنہ 22 میں سابق ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان کے خلاف اختیارات سے تجاوز کرنے ، بدعنوانی اور گاڑیوں کی غیرقانونی خریدوفروخت کے الزامات تحت ایک ریفرنس دائر کیا تھا۔

تاہم ذرائع کے کہنا ہے کہ بعدازاں نیب نے دباؤ میں آکر ان کے خلاف دائر ریفرنس واپس لے لیا تھا۔

سنہ 2017 میں پاکستان تحریک انصاف نے اپنے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ آفتاب سلطان ریاست سے زیادہ شریفوں کے وفادار ہیں۔  تحریک انصاف نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ آفتاب سلطان لندن میں نواز شریف سے ملاقاتیں کرتے ہیں۔

Aftab Sultan Chairman NAB

نئے چیئرمین نیب آفتاب سلطان کا مختصر تعارف

آفتاب سلطان کے والد اور ساس دو بار قومی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں۔

آفتاب سلطان 1954 میں پنجاب کے شہر فیصل آباد میں ایک سیاسی اور صنعتی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔

آفتاب سلطان نے پنجاب یونیورسٹی سے قانون میں گریجوئیشن کی ڈگری حاصل کی تھی۔

آفتاب سلطان کا تعلق فیصل آباد سے ہے اور اس نے 1977 میں پنجاب پولیس میں بطور اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ پولیس سروس آف پاکستان میں اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔

نیب قوانین میں ترامیم

واضح اس سے قبل وفاقی کابینہ نے احتساب قوانین میں سخت تبدیلیوں کی منظوری دی تھی اور انسداد بدعنوانی کے نگران ادارے کے دائرہ اختیار پر حد لگا دی تھی۔

نیب قوانین میں ترامیم کے ذریعے ایجنسیوں کے ذریعے نگرانی پر پابندی عائد کی تھی اور احتساب ججوں کی تقرری کے اختیارات صدر سے چھین لیے تھے۔

اس کے علاوہ، قومی احتساب (تیسری ترمیم) بل، 2020 میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ قومی احتساب بیورو (نیب) 500 ملین روپے سے کم رقم کے مقدمات کی تحقیقات نہیں کر سکتا۔

نئی ترمیم کے تحت گرفتاری کے وقت اور کسی بھی مرحلے پر ملزم کو بری کرنے یا بری کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

متعلقہ تحاریر