شہر قائد تالاب میں تبدیل، وزیراعلیٰ سندھ نمائشی دورے کرتے رہے
بارش کے دوران سندھ حکومت کی نا قص کارگردگی پرعوام نے پیپلزپارٹی کو بلدیاتی الیکشن میں مکمل طورپرمسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے

کراچی طوفانی بارشوں کے بعد پانی میں ڈوب گیا جبکہ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ شہر بھر میں نمائشی دوروں میں مصروف رہے۔ مراد علی شاہ نے بجائے شہری نکاسی آب کو بہتر بنانے کی کوشش کرتے انہوں صرف کراچی و حیدر آباد میں عام تعطیل کااعلان کرکے اپنی ذمہ داریاں کردیں۔
کراچی کے نمائشی دورے کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے 14سال سے صوبے میں حکمرانی کرنے کے باوجود بد ترین حالات کی ذمہ داری قبو ل کرنے کی بجائے شہر کی حالت کا ذمہ دار بارش کو ٹھہرایا ۔ان کا کہنا تھا زیادہ بارش ہوئی جس کے نظام متاثر ہوا ۔
یہ بھی پڑھیے
محکمہ موسمیات کی کراچی سمیت سندھ بھر موسلادھار بارش کی پیش گوئی
مراد علی شاہ مسلسل اپنی ذمہ داری سے برات ظاہر کرتے ہوئے ماضی کی بارشوں اور ہلاکتوں پر بات کرتے رہے ۔ کہا کہ 15سال پہلے بارشوں میں 228 افراد جاں بحق ہوئے تھے اور 13 سال پہلے 50 افراد جانوں سے چلے گئے تھے تاہم انہوں نے اپنی کارگردگی بتانے سے پرہیز کیا ۔
وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ نے کہا کہ لوگ لندن کی بارشوں کی وڈیو دکھاتے ہوئے کہتے ہیں شہر کتنا صاف ہے مگر وہ یہ نہیں بتاتے کہ وہاں نکاسی آب کا بہترین نظام موجود ہے تاہم انہوں نے اپنی 14 سالہ حکمرانی میں ایسا نظام کیوں نہیں بنانے کی کوشش کی وہ یہ سب بتانے سے قاصر رہے ۔
دوسری جانب عوام نے پیپلز پارٹی کی 14 سال سے سندھ پر حکمرانی پر ظلم و جبر سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کو ووٹ نہیں دیا جائے ۔ بارشوں نے جہاں ایک طرف پیپلز پارٹی کی نا اہلی کا بھانڈا پھوڑا وہیں عوام کو بلدیاتی الیکشن میں ووٹ دینے کے حوالے سے سوچنے پر مجبور کردیا ۔
سندھ حکومت کی نا قص کارگردگی اور کراچی اور حیدر آباد کے ساتھ سوتیلا رویہ عوام کو ان سے مزید دور کررہا ہے ۔ عوام نے بلدیاتی الیکشن میں پیپلز پارٹی کو مکمل طور پر مسترد کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔
واضح رہے کہ ہفتے کی رات سے شروع ہونے والی بارش سے وجہ سے شہر قائد دریا میں تبدیل ہو چکا ہے ۔ جگہ جگہ کھلے مین ہولز کی کی وجہ متعدد حادثات میں کئی افراد زخمی ہوئے جبکہ چند ایک جان کی بازی بھی ہار گئے ۔









