پاکستان سے اعلیٰ تعلیم کیلیے جانیوالی طالبہ حنا بشیر لندن میں قتل

جڑانوالہ سے تعلق رکھنے والی21سالہ حنا بشیر کوونٹری یونیورسٹی میں بی ایس کی طالبہ تھی، قتل کے الزام میں 26سالہ ارسلان گرفتار، ملزم پر فرد جرم عائد کردی گئی، کیس کا ٹرائل 6جون 2023 کو شروع ہوگا

فیصل آباد کے نواحی گاؤں جڑانوالہ سے اعلیٰ تعلیم کیلیے  لندن جانے والی 21 سالہ طالبہ حنا بشیر کو مبینہ طور پر پاکستانی نوجوان نے قتل کردیا۔

لندن میں مقیم پاکستانی صحافی فرید احمد قریشی حنا بشیر کے قتل کی  تفصیلات سامنے لے آئے۔

یہ بھی پڑھیے

نیویارک میں پاکستانی طالبہ پر تیزاب سے حملہ

بلوچستان کی ہونہار طالبہ کی امریکی جامعہ میں داخلے کیلیے چندہ مہم

فرید احمد نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر شیئر کردہ وڈیو میں بتایا ہے کہ حنا بشیر کو لندن کے علاقے ایلفرڈ کے ایک گھر میں قتل کیا گیا ہے، ان کی لاش قریبی جنگل میں سوٹ کیس سے ملی ہے۔

فرید احمد نے بتایا کہ حنا بشیربہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھیں ،وہ لندن سے پی ایچ ڈی کرنا چاہتی تھیں اورکوونٹری یونیورسٹی سے بی ایس کررہی  تھیں۔پاکستانی صحافی نے بتایا کہ 11 جولائی کو حنا کا رابطہ اپنے والدین سے منقطع ہوگیا جس پر انہوں نے لندن میں مقیم اپنے رشتے داروں سے رابطہ کیا جس کے بعد حنا بشیر کی تلاش شروع کی گئی۔

حنا کی تلاش کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ وہ 11 جولائی  کو لاپتہ ہونے سے قبل اپنے دوستوں کے ساتھ تھیں اور انہوں ایلفرڈ لین پر واقع ریسٹورنٹ میں اپنی دوستوں کے ساتھ کھانا کھایا تھا جس کے بعد وہ اپنی دو دوستوں کے ساتھ اپنا سامان لینے مذکورہ فلیٹ آئی تھیں۔

فرید احمد نے بتایا کہ ان کی دوستیں فلیٹ کے باہر ان کا انتظار کررہی تھیں اور کافی دیر تک حنا باہر نہیں آئیں تو انہوں نے دروازہ کھٹکھٹایا جس ایک نوجوان باہر آیا جس نے بتایا کہ حنا یہیں رکیں گی آپ لوگ چلی جائیں۔

پاکستانی صحافی کے مطابق مذکورہ نوجوان کا نام ارسلان تھا جسے حنا بشیر کی دوستوں نےبعد میں شناخت کرلیا۔فرید احمدکے مطابق اتوار 17جولائی کو  پولیس کو نواحی جنگل سے ملنے والے سوٹ کیس سے حنا بشیر کی لاش  ملی جس کے اگلے روز پولیس نے پاکستانی نوجوان ارسلان کو گرفتار کرلیا۔

فرید احمد کے مطابق 26سالہ ملزم ارسلان پر فرد جرم عائد کردی گئی ہے تاہم اس نے پولیس کو کسی قسم کا موقف دینے سے انکار کردیا ہے، ملزم کا ٹرائل آئندہ برس 7 جون کو شروع ہوگا جس میں پولیس تمام ثبوت اور شواہد عدالت کو فراہم  کریگی تاہم جب تک ملزم ریمانڈ پر جیل میں رہے گا۔

مقتولہ حنا بشیر کے والد جڑانوالہ کے معروف گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور کونسلر منتخب ہوچکے ہیں۔ان کاکہنا ہے کہ ان کی بیٹی اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے کچھ بننا چاہتی تھی، مقتولہ کے والد کے مطابق ملزم  کا تعلق بھی انہی کے علاقے سے ہے اور وہ ان کی برادری سے تعلق رکھتا ہے تاہم اس نوجوان کے حوالے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ آئرلینڈ میں مقیم تھا کچھ دن قبل ہی لندن منتقل ہوا تھا۔

فرید احمد کے مطابق حنا بشیر کی پوسٹ مارٹم رپورٹ میں وجہ موت نہیں لکھی گئی لیکن لندن پولیس نے  مقتولہ کے رشتیداروں کو بتایا ہے کہ اسکے جسم پر تشدد کے نشانات نہیں پائے گئےتاہم اس کی موت سانس روکے جانے کے باعث واقع ہوئی ہے،ہوسکتا ہے کہ مقتولہ کو گلا دبا کر یا تکیہ کی مدد سے اس کا دم گھوٹا گیا ہو۔

مقتولہ کے والد نےاپنے وڈیو پیغا م میں کہا ہے کہ ان کی بیٹی حنابشیر نومبر 2021 میں کوونٹری یونیورسٹی برطانیہ میں تعلیم حاصل کرنے کیلیےلندن گئی تھی جسے وہاں قتل کردیاگیا ہے تاہم پاکستانی یا برطانوی سفارتخانے نے اس سلسلے میں ان سے کسی قسم کا رابطہ نہیں کیا ہے۔انہوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ انہیں ویزا جاری کیا جائے تاکہ وہ لندن جاکر اپنی بیٹی کی میت واپس لاسکیں۔

متعلقہ تحاریر