عدالت نے دعا زہرا کی والدین، شوہر اور دیگر فریقوں سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی
جبران ناصر نے کہا کہ دعا زہرا کو میڈیا سے دور رکھا جائے، قانوناً بچی کا نام میڈیا پر نہیں لیا جاسکتا ہے

کراچی کی مقامی عدالت میں دعا زہرا کیس کی سماعت ہوئی۔ دوران سماعت کیس کے نئے تفتیشی افسر سعید رند نے دعا زہرا کو عدالت میں پیش کیا گیا۔ دعا زہرا کو جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی آفتاب احمد بگھیو کی عدالت نے طلب کر رکھا تھا ۔
جوڈیشل مجسٹریٹ شرقی آفتاب احمد بگھیو کی عدالت دعا زہرا کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت کے حکم پر تفتیشی افسر سعید رند نے دعا زہرا کی عدالت میں پیش کیا ۔ سماعت کے دوران لڑکی کے والد کے وکیل جبران ناصر بھی موجود رہے ۔
یہ بھی پڑھیے
دعا زہرا کیس: ملزم ظہیر احمد کا وکیل عدالت سے داؤ پیچ کرنے لگا
دوران سماعت عدالت نے تفتیشی افسر سعید رند کو ہدایت دی کہ بچی کو اس کے والدین، شوہر ظہیر احمد یا کسی بھی فریق کو ملنے نہ دیا جائے ۔ ہمارا آج بچی کو پیش کرنے کا حکم اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ وہاں ماحول ٹھیک ہے۔
عدالت نے کہا کہ اب جب تک عدالت حکم نہ دے دعا زہرا کو عدالت میں پیش نہ کیا جائے۔ جب عدالت ضرورت محسوس کرے گی پیش کرنے کے احکامات جاری کریں گے۔ جب کسی کی دعا زہرا سے ملاقات کی دخواست آئے تو دیکھیں گے ۔
وکیل مدعی نے کہا کہ ہم اس بات کی مخالفت کرتے ہیں کہ بچی کو وکیل کرنے دیا جائے۔بچی سے جب پہلے لاہور میں ملاقات کرائی گئی ان گنت وکالت نامے سائن کرائے گیے جبکہ کچھ میڈیا حضرات جو ملزم کی فیملی کے ساتھ پریس کانفرنس کررہے ہیں۔
جبران ناصر نے کہا کہ قانون کے مطابق میڈیا بچی کا نام نہیں لیا جا سکتا ہے جبکہ ہم پہلے دن سے کہے رہے ہیں میڈیا ہو دور رکھا جائے ۔ ظہیر احمد کے وکیل نے کہا کہ اگر مدعی مقدمہ بھی یقین دہانی کرادیں تو ہم بھی میڈیا میں بیانات نہیں دیں گے۔
اس سے قبل عدالتی حکم پر تفتیشی افسر سعید رند نے دعا زہرا کو عدالت لیکر پہنچیں تو انہوں نے صحافیوں کو ڈرانا اور دھمکانا شروع کردیا۔ سعید رند نے ہاتھ میں پستول پکڑ کر صحافیوں کو دھکے دیتے رہے اور بد تمیزی سے پیش آتے رہے ۔









