وزیراعظم کے مشیر طارق فاطمی کا دورہ امریکا نجی قرار، واشنگٹن کا اظہار تشویش

ترجمان وزارت خارجہ نے وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی کے دورہ واشنگٹن کو ان کا نجی دورہ قرار دیتے ہوئےکہا کہ اس میں دفتر خارجہ کا کوئی کردار نہیں ہے

ترجمان  وزارت  خارجہ نے وزیراعظم  شہبازشریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی  کے دورہ واشنگٹن کو ان کا نجی دورہ قرار دے دیا۔ ترجمان نے کہا کہ امریکی حکام کے ساتھ طارق فاطمی کی ملاقات میں دفتر خارجہ کا کوئی کردار نہیں ہے ۔

وفاقی حکومت کی ہدایت پروزیراعظم شہبازشریف کے معاون خصوصی طارق فاطمی نے امریکا کا دورہ کیا اورملکی معیشت کی بحالی کیلئے واشنگٹن کی مدد حاصل کرنے  کی کوشش کی تاہم ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار نے کہا کہ طارق فاطمی سرکاری نہیں بلکہ نجی دورے پر تھے ۔

یہ بھی پڑھیے

طارق فاطمی کے معاملے پر وزیراعظم شہباز شریف کا پہلا یوٹرن

معاون خصوصی طارق فاطمی گزشتہ ہفتے واشنگٹن پہنچیں اورانہوں نے وہاں امریکی نائب وزیرخارجہ وینڈی شرمن سے ملاقات کی جس میں تجارتی اور اقتصادی معاملات پر گفتگو کی گئی تاہم طارق فاطمی کے دورے کو نجی قرار دینے پر امریکی حکام  شش و پنچ کا شکار ہوگئے ۔

طارق فاطمی نے 21 جولائی کو امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن سے ان کے دفتر میں ملاقات کی جس  کے بعد انہوں نے ٹوئٹر ہینڈل پر اس بارے میں بتایا کہ وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی سے ملاقات میں اہم امور پر گفتگو کی گئی ۔

امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی شرمن  نے یہ بھی لکھا کہ امریکہ ،پاکستان کے ساتھ ملکر کام کرنے اور  دونوں ممالک  کے درمیان سفارتی تعلقات کے 75 سال کا جشن منانے کا منتظر ہے۔

اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بھی ملاقات کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ بات چیت افغانستان پر ہم آہنگی، علاقائی استحکام اور پاکستان اور دنیا بھر میں غذائی تحفظ  اور یوکرین، روس جنگ پر گفتگو کی گئی۔

پاکستانی سفارتخانے نے بھی اسی حوالے سے ایک پریس ریلیز جاری کی جبکہ پاکستان میں میڈیا نے بھی اس ملاقات کی کوریج کی۔ کچھ نے خیال ظاہر کیا تھا کہ طارق فاطمی  کو امریکی صدر جو بائیڈن اور وزیر اعظم شہباز شریف کے درمیان ملاقات کا بندوبست کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے طارق فاطمی کے دورے سے متعلق خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے  کہا کہ وہ نجی دورے پر امریکا گئے تھے تاہم پاکستانی سفارتخانے نے طارق فاطمی کو امریکی حکام سے ملاقاتوں کیلئے سہولت فراہم کی اور ملاقاتوں میں شریک ہوئے۔

ترجمان دفتر خارجہ عاصم افتخار کے بیان کے بعد امریکامیں کافی اضطراب پیدا ہوا  جبکہ واشنگٹن کے حلقوں نے تشویش کا اظہار  بھی کیا۔

متعلقہ تحاریر