القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کابل میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے

الظواہری کو کابل کے رہائشی علاقے شیر پور میں واقع گھر میں ہفتے کی رات 2 ہیل فائر میزائلوں سے نشانہ بنایا گیا،طالبان ترجمان کی تصدیق،انٹیلی جنس اداروں نے اپریل میں الظواہری کا کھوج لگالیا تھا،انصاف ہوگیا اور دہشت گرد رہنما مارا جاچکا،امریکی صدر جوبائیڈن

القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری افغانستان میں امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔ امریکی صدر جوبائیڈن نے ایمن الظواہری کو کابل میں نشانہ بنانے کی تصدیق کردی۔

امریکی صدر جو بائیڈن نے امریکی قوم سے خطاب میں این الظواہری کو کابل میں نشانہ بنانے کی تصدیق کردی۔انہوں نے کہاکہ ہ واضح اور قابل یقین شواہد پر حملے کی اجازت دی اور دہشتگرد کو انجام تک پہنچایا۔

یہ بھی پڑھیے

چینی وزیر خارجہ وانگ یی کی افغان ہم منصب سے ملاقات

امریکی صدر 2 ویکسینز اور 2 بوسٹرز لگوانے کے باوجود کرونا کا شکار

امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایمن الظواہری نے  اپنے خاندان کے ساتھ دوبارہ ملنے کے لیے کابل کے مرکز میں پناہ لے  رکھی تھی ۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس ایجنسیوں نے رواں سال اپریل میں نائن الیون حملے کی منصوبہ بندی میں شامل ایمن الظواہری کا پتہ چلا لیا تھا، ہر قیمت پر امریکا کا دفاع کریں گے اور اپنے دشمنوں کا ہر جگہ تعاقب کریں گے۔

امریکی صدر کا کہنا تھا ایمن الظواہری نائن الیون سمیت امریکا پر ہونے متعدد حملوں کا منصوبہ ساز تھے، انہوں نے حالیہ ہفتوں میں امریکا اور اتحادیوں پرحملے کے لیے ویڈیوز جاری کیں، الظواہری کی موت سے امریکیوں کو انصاف ملا ہے۔

دوسری جانب  امریکی انتظامیہ کے ایک اعلیٰ اہلکار نے الظواہری کو دو ہیل فائر میزائلوں سے نشانہ بنانے کی تصدیق کی ہے،انہیں ہفتے کی رات 9 بج کر 48 منٹ پر نشانہ بنایاگیا۔واقعے میں کسی عام شہری کو نقصان نہیں پہنچا۔

امریکی اہلکار کے مطابق  بائیڈن نے اپنی کابینہ اور اہم مشیروں کے ساتھ ہفتوں کی ملاقاتوں  کے بعد اختیار دیا تھا،انہوں نے مزید کہا کہ حملے کے وقت کابل میں کوئی امریکی اہلکار زمین پر نہیں تھا۔

امریکی اہلکار کے مطابق حقانی طالبان کی سینئر قیادت الظواہری کی کابل میں موجودگی سے باخبر تھی جوکہ دوحہ معاہدے کی واضح  خلاف ورزی ہے۔امریکی  اہلکارنے دعویٰ کیا کہ ہفتے کوکامیاب حملے کے بعدطالبان نے ایمن الظواہری کی موجودگی چھپانے کی کوشش بھی کی یہاں تک القاعدہ رہنما کے ٹھکانے تک رسائی کو محدود کیا گیا بلکہ ایمن الظواہری  کے اہلخانہ بشمول انکی بیٹی اور اس کے بچوں کو (جنہیں حملے میں جان بوجھ کر نشانہ نہیں بنایا گیا) منتقل کیا گیا۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے امریکی حملے کی تصدیق کی اور  امریکی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی اصولوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔

ذبیح اللہ مجاہد نےا پنے ٹوئٹس میں کہا کہ 31 جولائی کو کابل شہر کے علاقے شیر پور میں ایک رہائشی مکان پر فضائی حملہ کیا گیا، ابتدا میں واقعے کی نوعیت واضح نہیں تھی لیکن امارت اسلامیہ کی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس سروسز نے واقعے کی تحقیقات کی اور ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا کہ حملہ ایک امریکی ڈرون نے کیا تھا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ امارت اسلامیہ افغانستان   اس حملے کی شدید مذمت کرتی ہے اور اسے بین الاقوامی اصولوں اور دوحہ معاہدے کی صریح خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

امریکی صدر جوبائیڈ ن نے پیر کی شام وائٹ ہاؤس کی بالکونی سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ  ایمن الظواہری  نائن الیون حملوں کی منصوبہ بندی میں کلیدی طور پر ملوث اور سب سے زیادہ ذمے دار تھے، جس واقعے میں امریکی سرزمین پر 2ہزار977افراد ہلاک ہوئے، وہ کئی دہائیوں سے امریکیوں کیخلاف حملوں کے ماسٹر مائنڈ تھے۔انہوں نے کہا کہ اب انصاف ہوگیا اور دہشت گرد رہنما مارا جاچکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا اپنے عوام کے دفاع کے عزم اور اپنی صلاحیت کا اعادہ کرتا ہےان لوگوں کیخلاف جو ہمیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہم آج پھر واضح کرنا چاہتے ہیں کہ چاہے ہمیں کتنا وقت لگ جائے،چاہے آپ کہیں بھی چھپے ہوئے ہوں،اگر آپ ہمارےلوگوں کیلیے خطرہ ہیں  تو امریکا آپ کو ڈھونڈ کر باہر نکالے گا۔

  یاد رہے کہ ایمن الظواہری کے بارے میں معلومات دینے والے کے لیے امریکا نے ڈھائی کروڑ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد یہ پہلی کارروائی ہے جو انخلا کا ایک سال پورا ہونے کے موقع پر کی گئی۔ایمن الظواہری نے القاعدہ کی کمان اسامہ بن لادن کے مارے جانےکے بعد سنبھالی تھی، اسامہ بن لادن کو امریکا نے پاکستان میں نشانہ بنایا تھا۔

متعلقہ تحاریر