دعا زہرا کیس: تفتیشی افسر نے عبوری چالان جمع کروانے کیلئے مزید وقت طلب کرلیا

دوران سماعت کے دوران نکاح خوا نےانکشاف کیا کہ دعا زہرا اور ظہیر احمد کا نکاح نہیں پڑھایا جبکہ شادی کا گواہ بھی منحرف ہوگیا

دعا زہرا کیس کے تفتیشی افسرنے عبوری چارج شیٹ جمع کروانے کے لیے مزید وقت مانگا۔ دوران سماعت کیس کے تفتیشی افسر( آئی او) سعید رند نے مغوی دعا زہرہ کی کم عمری میں شادی کے مقدمے میں عبوری چارج شیٹ داخل کرنے کے لیے مزید وقت  طلب کرلیا ہے ۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت میں دعا زہرہ کے اغوا اور کم عمری کی شادی کیس میں اہم پیشرفت دیکھنے میں آئی۔ دوران سماعت تفتیشی افسر (آئی او) سعید رند نے کم عمر لڑکی دعا زہرہ  کے  کیس کے عبوری چالان پیش کرنے کیلئے  مزید مہلت طلب کی ہے ۔

یہ بھی پڑھیے

ظہیراحمد کی سندھ ہائیکورٹ دائر توہین عدالت کی درخواست پر سماعت

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تفتیشی افسر سعید رند کی جانب سے چالان پیش کرنے کے لیے مزید مہلت طلب کرنے پر کیس کی درخواست منظورکرتے ہوئے سماعت13 اگست تک ملتوی کردی ہے۔

عدالت نے ایک اوردرخواست جس میں نئے میڈیکل بورڈ بنانے کی استدعا کی گئی تھی کو مسترد کردیا ہے۔ درخواست لڑکی کے والد مہدی علی کاظمی نے جمع کروائی تھی۔ اس سے قبل جوڈیشل مجسٹریٹ نے لڑکی کا طبی معائنہ کرانے کا حکم بھی مسترد کردیا تھا۔

سماعت کے دوران مرکزی ملزم ظہیر احمد اور اس کا بھائی شبیر احمد آج عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ نیوز 360 کے نمائندے کے مطابق سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں ظہیر اور شبیر کے نام لیے گئے تاہم وہ وہاں موجود نہیں تھے۔

مقدمے کی ایک اور پیش رفت میں دعا  زہرا اور ظہیر احمد   کے نکاح کے حوالے سے نکاح خوا نے انکشاف کیا کہ دونوں کے نکاح نہیں ہوا ہے  جبکہ گواہ بھی ایسی کسی گواہی سے منحرف ہوگیا ہے ۔

واضح رہے کہ کراچی سے تعلق رکھنے والی  کم عمر  لڑکی دعا زہرہ نے لاہور جا کر ظہیر احمد نامی لڑکے سے شادی کر لی تاہم لڑکی کے والد نے موقف اختیار کیا کہ ان کی بیٹی کی عمر 14 سال ہے جبکہ ملک میں شادی کی کم از کم عمر 18  ہے۔

لڑکی کے والد مہدی کاظمی کے وکیل نے دعا زہرہ کو کم عمر ثابت کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔میڈیکل رپورٹ میں انکی عمر 16 سے 17 سال کے درمیان بتائی گئی جسے کاظمی اور ان کے وکیل نے مسترد کرتے ہوئے نئے طبی معائنے کی درخواست دائر کردی تھی ۔

مہدی کاظمی کے وکیل کی درخواست پر بنائے گئے نئے میڈیکل بورڈ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ زہرہ کی عمر 15 سال ہے جس کے بعد  وزیر اعظم شہباز شریف کے معاون خصوصی سلمان صوفی کی ہدایت پر بچی کو  بازیاب کروا کے کراچی بھیج دیا گیا ۔

متعلقہ تحاریر