کامن ویلتھ گیمز میں پاکستانی ریسلرز کی زبردست کارکردگی، 7 میڈلز لے اڑے
رواں ایڈیشن میں پاکستانی پہلوانوں نے 7 تمغے جیت لیے جن میں ایک گولڈ، تین کانسی اور تین سلور میڈلز شامل ہیں۔
برطانیہ کے شہر برمنگھم میں ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں ریسلر محمد شریف طاہر نے پاکستان کے لیے ایک اور تمغہ جیت لیا اس طرح پاکستانی تمغوں کی تعداد 7 ہو گئی
75 کلو گرام کیٹیگری کے فائنل مقابلے میں ریسلر محمد طاہر شریف بھارت کے نوین سے 9-0 سے ہار گئے ، تاہم انہوں نے فائنل تک پہنچنے کے لیے غیر معمولی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
اسپورٹس رپورٹر شعیب جٹ کو خواتین ایتھلیٹس پر تنقید مہنگی پڑگئی
بابر اعظم کا قومی ہیرو نوح دستگیر بٹ کیلیے20لاکھ روپے انعام کا اعلان
ریسلر محمد شریف طاہر نے پری کوارٹر میں ٹونگا کے جان ویک کو 11-0 سے، کوارٹر فائنل میں کینیڈا کے جسمیت سنگھ پھولکا کو 5-1 سے شکست دی اور پھر فائنل میں پہنچ کر نیوزی لینڈ کے کول ہاکنز کو 11-0 سے شکست دی اور پاکستان کے لیے چاندی کا تمغہ یقینی بنایا۔
20 سالہ محمد شریف طاہر ، زمان انور اور محمد انعام بٹ کی لائن میں آکر کھڑے ہوئے گئے ، جنہوں نے ایک روز قبل 125 کلوگرام اور 86 کلوگرام فری اسٹائل مقابلوں میں چاندی کے تمغے جیتے تھے۔
ALHAMDULILA 5 🏅 medals for 🇵🇰 3 silver 🥈 2 Bronze 🥉 in Wrestling biggest achievement and Proud moment for Pakistan Wrestling Federation. @NOCPakistan @SportsBoardPak @GovtofPakistan pic.twitter.com/gUOnPFR6Ij
— Inam Butt (@InamTheWrestler) August 6, 2022
زمان انور نے محمد شریف طاہر اور علی سعد کی بہترین پرفارمنس کی تعریف کی ہے ، جنہوں نے نیوزی لینڈ کے سورا سنگھ کو 55 سیکنڈ میں 11-0 سے شکست دے کر کانسی کا تمغہ جیتا تھا اور پاکستان کے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کیا تھا۔
ریسلر علی سعد سیمی فائنل میں اولمپک میڈلسٹ ہندوستان کے روی کمار سے سخت مقابلے کے بعد 14-4 سے ہار گئے۔
انہوں نے اپنے راؤنڈ آف 16 کے میچ اور کوارٹر فائنل میں بالترتیب انگلینڈ کے ہاروی رائیڈنگ کو 10-0 اور نمیبیا کے رومیو ریکارڈو گولیتھ کو شکست دی۔
پاکستان کے تیسرے پہلوان طیب رضا اعوان بھی 97 کلوگرام کیٹیگری کے سیمی فائنل میں کینیڈا کے نشان رندھاوا سے 7-0 سے ہار گئے تھے تاہم ابھی ان کا کانسی کے تمغے کے لیے مقابلہ باقی ہے۔
2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں طیب رضا اعوان نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا تاہم وہ موجودہ ایڈیشن میں اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کرپائے اور بھارتی ریسلر دیپک سے 10-2 سے ہار گئے۔
اس سے قبل جمعہ کے روز عنایت اللہ نے 65 کلو گرام کے مقابلے میں پاکستان کو کانسی کا تمغہ بھی جیتا تھا۔
کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے کل تمغوں کی تعداد 7 ہوگئی ہے جن میں ایک گولڈ، تین کانسی اور تین سلور میڈلز شامل ہیں۔
تین ماہ قبل پاکستان اسپورٹس بورڈ کی جانب سے تعاون ملنے کے بعد بھی پاکستانی پہلوانوں نے اپنا ٹریننگ سیشن شروع کیا تھا ، اس سے قبل ان کا کوئی ٹریننگ کیمپ نہیں ہوا تھا جبکہ پہلوان بیرون ملک ٹریننگ کی درخواست کرتے رہے تھے۔
نجی ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے ریسلر زمان انور کا کہنا تھ ا "میں پاکستانی حکومت سے اپیل کرتاہوں کہ وہ پہلوانی کے شعبے کی جانب توجہ دے ۔ ہمارے پاس بہت زیادہ ٹیلنٹ ہے اور ہم بین الاقوامی مقابلوں میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، اگر ہم بیرون ملک تربیت حاصل کریں، جیسا کہ دوسرے ممالک کے ریسلرز کرتے ہیں۔”
دیگر کھیلوں میں، پاکستان ہاکی ٹیم ساتویں نمبر پر رہی جب اس نے اپنے 7-8 ویں پوزیشن کے میچ میں کینیڈا کو 4-3 سے شکست دی۔
اسکواش میں آمنہ فیاض اور فائزہ ظفر نے خواتین کے ڈبلز پلیٹ کوارٹر فائنل میں سری لنکا کی یحینی کروپو اور چنیتھمہ سینالی کو 2-1 سے شکست دی۔









