اتحادی حکومت نے 4 ماہ میں مہنگی ترین بجلی بنائی،بوجھ عوام پر لادھ دیا

 جون میں فرنس آئل سے پیدا کی گئی بجلی 36 روپے 20 پیسے فی یونٹ میں پڑی جو تاریخ کی مہنگی ترین بجلی ہے، صرف جون میں عوام پر 150 ارب روپے سے زیادہ کا بوجھ ڈالا گیا۔

11 اپریل 2022 کے بعد سے عوام  اتحادی حکومت کے بدترین فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کو برداشت کررہے ہیں، اتحادی حکومت میں ملکی تاریخ کی مہنگی ترین بجلی پیدا کرکے اسکا تمام تر بوجھ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ کی شکل میں عوام پر ڈال رہی ہے ۔  

نیپرا نےجون کے مہینے میں  ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں ملکی تاریخ کا سب سے بڑا اضافہ کردیا ہے اور   بجلی صارفین پر153ارب روپے سے زائد کا اضافی بوجھ ڈال دیاہے۔  جون میں فرنس آئل سے پیدا کی گئی بجلی  36روپے20 پیسے فی یونٹ میں پڑی جو تاریخ کی  مہنگی ترین بجلی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

75 ویں یوم آزادی پر 75 روپے کے یادگاری نوٹ کی نقاب کشائی

سعودی عرب نے پاکستان کی ہچکولے کھاتی معاشی کشتی کو سہارا دے دیا

جون میں فرنس آئل سے فی یونٹ بجلی36روپے20 پیسے میں پڑی اور عوام کے لیے دہری اذیب کا سبب بنی۔    پی ٹی آئی حکومت کے آخری مہینے مارچ میں22روپے52 پیسے فی یونٹ میں بجلی پیدا کی گئی تھی۔

دستاویز کے مطابق  جون2022 میں فرنس آئل سے10.48فیصد بجلی پیدا کی گئی،  مئی میں فرنس آئل سے بجلی 33روپے67پیسے فی یونٹ میں پڑی تھی ، اپریل میں فرنس آئل سے بجلی 28روپے19 پیسے فی یونٹ میں پڑی تھی ،  جون کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں بجلی11 روپے10 پیسے فی یونٹ تک مہنگی کی گئی۔

کے الیکٹرک 11 روپے 10 پیسے اور باقی ملک کیلئے بجلی 9 روپے 90 پیسے مہنگی کی گئی۔ عوام  مسلسل فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ سے تنگ ہیں اور ان کا شکوہ ہے کہ اتنا بل نہیں ہوتا جتنا فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ عوام پر  ڈالا جا رہا  ہے۔

متعلقہ تحاریر