رہنما پی ٹی آئی شہباز گل 48 گھنٹوں کے لیے پولیس کے حوالے، سیشن کورٹ کا فیصلہ

رہنما پی ٹی آئی کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کے خلاف درج مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے، پہلے ریمانڈ دیا جا چکا ہے مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد نے بغاوت کے مقدمے میں گرفتار رہنما پی ٹی آئی شہباز گل کو مزید 48 گھنٹوں کے لیے پولیس تحویل میں دینے کا فیصلہ دے دیا ہے۔ 

پاکستان تحریک انصاف کے بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق پولیس نظرثانی اپیل پرایڈیشنل سیشن جج نےفیصلہ محفوظ کیا تھاجو سہ پہر 3 بجے سنایا گیا۔

پی ٹی آئی رہنما شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ سے متعلق  پولیس کی نظر ثانی درخواست کی سماعت ایڈیشنل سیشن جج اسلام آباد زیبا چوہدری کی عدالت میں ہوئی۔

شہباز گل کے وکلاء سلمان صفدر اور فیصل چوہدری جبکہ پولیس کی جانب سے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر راجہ رضوان عباسی نے عدالت میں دلائل دیئے۔

یہ بھی پڑھیے

شہباز گل پر تشدد ، افسانہ نہیں حقیقت ہے ، حامد میر کا انکشاف

شمالی سندھ میں کاروکاری کے واقعات میں اضافہ، رواں سال 123 افراد قتل

شہباز گل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل میں جنرل ریٹائرڈ مرزا اسلم بیگ اور ایئر چیف مارشل ریٹائرڈ اصغر خان کیس کا حوالہ دیا۔

پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا موقف تھا کہ پولیس نے ابھی بہت سے مزید پہلوؤں پر تفتیش کرنی ہے جس کے لئے ملزم شہباز گل کا مزید ریمانڈ دیا جانا ضروری ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ معمولی نوعیت کے کیسز میں آٹھ دس روز کا ریمانڈ دیا جاتا ہے جب کہ یہ تو مجرمانہ سازش کا کیس ہے۔

پراسیکیوٹر رضوان عباسی کا موقف تھا کہ مجسٹریٹ نے تفتیشی افسر کی استدعا محض مفروضے کی بنیاد پر مسترد کی، ملزم نے ادارے کے اندر بغاوت کرانے کی کوشش کی۔

شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری کا مؤقف تھا کہ شہباز گل کے خلاف الزام کے ساتھ مبینہ کا لفظ استعمال کیا جائے۔ اگر ملزم کے موبائل کا ڈیٹا حاصل کرنا ہے تو بھی جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

شہباز گِل کے وکیل سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ شہباز گل کے خلاف درج مقدمہ بدنیتی پر مبنی ہے، پہلے ریمانڈ دیا جا چکا ہے مزید ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔

ان کا کہنا تھاکہ کیس کا ریکارڈ انہیں ابھی تک فراہم نہیں کیا گیا جب کہ ریمانڈ میں بھی کچھ معاملات کو خفیہ رکھا گیا ہے۔

شہباز گل کے وکیل نے مزید کہا کہ ان کے موکل کے انٹرویو کا کچھ حصہ الگ کرکے اس پر مقدمہ درج کر لیا گیا، ٹیلی ویژن چینل پر دیئے گئے بیان میں کچھ چیزیں غلط تو ہو سکتی ہیں لیکن یہ معاملہ بغاوت ، سازش یا جرم کے زمرے میں نہیں آتا۔

ان کا دلائل میں کہنا تھا کہ 9 محرم کو شہباز گِل کو موبائل فون نہیں بلکہ چینل نے لینڈ لائن نمبر پر کال کی تھی۔

اس موقع پر پولیس کے تفتیشی افسر نے ریکارڈ عدالت کے سامنے پیش کیا۔

اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر اور شہباز گل کے وکلاء کی جانب سے دلائل مکمل کرنے پر ایڈیشنل سیشن جج کی عدالت نے فیصلہ محفوظ کیا۔ جو آج دوپہر تین بجے سنایا جائے گا۔

شہباز گل کا ریمانڈ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس عامر فاروق  نے پی ٹی آئی کے بغاوت پر اکسانے کے الزام میں گرفتار رہنما شہباز گِل کے مزید جسمانی ریمانڈ سے متعلق نظرثانی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد کی درخواست منظور کرلی تھی اور سیشن عدالت کو رہنما تحریک انصاف کے مزید جسمانی ریمانڈ کی نظرثانی درخواست دوبارہ سننے کو حکم دیاتھا۔؎

عدالت کا اپنے حکم میں کہنا تھا کہ جوڈیشل مجسٹریٹ کے آرڈر کے خلاف درخواست قابل سماعت ہے، ایڈیشنل سیشن جج درخواست سن کر میرٹ پر فیصلہ کریں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکم دیا تھا کہ فریقین سیشن جج کے پاس پیش ہوکر دلائل دیں۔

ایڈووکیٹ جنرل نے شہباز گل کے ریمانڈ کی استدعا مسترد ہونے پر دوبارہ جائزے کی درخواست دائر کی تھی جسے سیشن جج کی عدالت نے ناقابل سماعت قرار دے دیا تھا۔ جس پر ایڈووکیٹ جنرل نے سیشن جج کے فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلے میں کہاتھا کہ ایڈووکیٹ جنرل کی درخواست سیشن عدالت میں زیر التوا تصور کی جائے جبکہ ایڈیشنل سیشن جج شہباز گل کی ضمانت کی درخواست کے ساتھ ریمانڈ کی نظرثانی درخواست پر بھی دلائل سنیں۔

متعلقہ تحاریر