ملک بھر میں بارشوں سے تباہی جاری، کوئٹہ کا زمینی رابطہ منقطع

بلوچستان سمیت ملک بھر میں بارشوں سے تباہی جاری ہے،ریلوے لائن اور مرکزشاہراہ کی مرمت نہ ہونے کے باعث صوبائی دارالحکومت کوئٹہ کا زمینی رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔
پیر کو شدید بارش کے بعد ٹریک پانی ڈوبنے کے بعد ریلوے سروس معطل کردی گئی تھی جب کہ کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر 4روز سے ٹریفک معطل ہے کیونکہ ہائی وے پر سیلابی پانی بدستور بہہ رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
جولائی میں 61سال بعد معمول سے 181فیصد زائد بارشیں ریکارڈ
پاکستان میں بارشوں کا 30 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا، شیریں رحمان
انگریزی روزنامہ ڈان سے بات کرتے ہوئے سبی کے ڈپٹی کمشنر منصور قاضی نے ان خبروں کی تردید کی کہ ٹریک کئی مقامات پر بہہ گیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ٹریک پانی میں ڈوب گیا ہے اور علاقے میں پانی نکالنے اور کوئٹہ اور ملک کے دیگر حصوں کے درمیان ریلوے سروس بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔
دریں اثنا بولان کے ڈپٹی کمشنر نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ کوئٹہ کراچی شاہراہ سے گریز کریں کیونکہ سیلاب کی وجہ سے تباہ ہونے کے بعد اسے ابھی تک ٹریفک کے لیے نہیں کھولا گیا۔
ادھرضلع پشین کے علاقے سرانان میں ایک المناک حادثے میں شادی کی تقریب میں شریک پانچ افراد سیلابی ریلے میں بہہ کر جاں بحق ہوگئے۔مرنےوالوں میں 3 خواتین اور 2 بچے شامل ہیں۔متاثرین ایک قافلے میں خاندان کے افراد کے ساتھ جا رہے تھے کہ بہتے پانی میں پھنس گئے۔حکام کے مطابق خواتین اور بچوں سمیت 11 افراد کو خاندان کے مرد افراد نے بچا لیا۔
دریں اثنا موسیٰ خیل، ژوب، پشین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ، نصیر آباد اور لسبیلہ میں بھی گزشتہ دو روز سے جاری موسلادھار بارش کے باعث حالات بہتر نہیں ہوسکے۔حکام کے مطابق قلعہ سیف اللہ، مسلم باغ، موسیٰ خیل، کوہلو، ڈیرہ بگٹی اور دیگر علاقوں میں سیکڑوں کچے مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔موسیٰ خیل میں مسلسل بارش سے ندی نالوں میں طغیانی آنے سے متعدد افراد پھنس گئے۔مقامی انتظامیہ کے ایک سینئر اہلکار نے ڈان کو بتایا کہ موسیٰ خیل میں بارش سے متعلقہ حادثات میں اب تک 12 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
ادھر ضلع سبی میں دریائے لہری نے نصیر آباد میں کچے مکانات کو نقصان پہنچایا جس سے سیکڑوں افراد پھنس گئےجبکہ گوگھی ڈیم اوور فلو ہونے کے باعث پانی ملحقہ آبادیوں میں داخل ہوگیا۔سبی کے ڈپٹی کمشنر منصور قاضی نے بتایاکہ سبی میں مقامی لوگوں کو سیلاب زدہ دیہات سے نکالنے کے بعد امدادی سامان بشمول خوراک، پینے کا پانی، خیمے اور دیگر اشیا فراہم کی گئی ہیں۔
دریں اثناپاکستان اور ایران کے درمیان ٹرین سروس 11 روز بعد بحال کر دی گئی۔ کوئٹہ تفتان ریلوے لائن چھ مقامات پر بہہ جانے کےباعث یہ سروس معطل تھی۔صوبے میں رواں مون سون سیزن میں اب تک 196 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔
سیلاب نے گروچگلوٹ میں دریائے ہنزہ کو بند کردیا
گلگت بلتستان کے کئی علاقوں میں منگل کے روز سیلابی پانی نے تباہی پھیلانے کا سلسلہ جاری رکھا، درجنوں مکانات، پل اور سڑکیں بہہ گئیں۔ ندی نالوں میں اچانک سیلاب آنے سے کئی لوگ بے گھر ہو گئے جبکہ فصلیں، زرعی زمینیں، درخت، فش فارمز،نہریں، ہائیڈرو الیکٹرک پاورا سٹیشن اور ٹرانسمیشن انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔
پولیس کے مطابق گچی نالے سے آنے والے سیلاب نے گرو جگلوٹ کے علاقے میں دریائے ہنزہ کو بند کر دیا اور پانی کا رخ رہائشی علاقوں کی طرف موڑ دیا جس سے دریا کے کنارے متعدد رہائشی اور تجارتی املاک کو نقصان پہنچا۔
بابوسر پاس کے راستے ملک کے دیگر علاقوں سے گلگت بلتستان جانے والی ٹریفک روک دی گئی ہے جبکہ خیبرپختونخوا میں اپر کوہستان کے علاقے اچھر نالہ کے مقام پر شاہراہ قراقرم کو بھی بند کردیا گیا ہے
وادی نیلم میں بادل پھٹنے سے رتی گلی جھیل میں سیلاب آگیا
آزاد کشمیر میں بھی بارشوں سے تباہی کا سلسلہ جاری ہے، وادی نیلم کے ایک نہر میں بادل پھٹنے سے آنے والا سیلاب کم از کم تین مکانات اور کچھ گاڑیوں کو بہا لے گیا۔ اسٹیٹ ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کے ایک سینیئر اہلکار سعید قریشی نے ڈان کو بتایا کہ سیلاب رتی گلی نالے میں تقریباً6 کلومیٹر نیچے رتی گلی جھیل میں آیا تھا، جو ایک مشہور سیاحتی مقام ہے۔









