جوڈیشل مجسٹریٹ کا شہباز گل کو پیر تک پمز اسپتال میں رکھنے کا حکم
ملزم کو دمے کا مرض ہے اس کے ٹیسٹ کرائیں،عدالت نے شہباز گل کی پیر تک دوبارہ میڈیکل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا، چیئرمین پی ٹی آئی کے چیف آف اسٹاف پیشی کے موقع پر دھاڑے مار کر رودیے۔
اسلام آباد کی مقامی عدالت نے شہباز گل کو پیر تک پمز میں رکھنے کا حکم دے دیا،جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان نے محفوظ فیصلہ سنا دیا۔
عدالت نے شہباز گل کا دوبارہ میڈیکل کرانے کا بھی حکم دیدیا۔ عدالت نے قرار دیاکہ شہباز گل کو دمہ کا مرض ہے اس کے ٹیسٹ کرائیں،عدالت نے شہباز گل کی پیر تک دوبارہ میڈیکل رپورٹ جمع کرانے کا حکم دے دیا
یہ بھی پڑھیے
غریدہ فاروقی خود ہی وکیل،مدعی اور منصف بن گئیں،شہباز گل کو مجرم قرار دیدیا
مر جاؤں گا چوروں کے ساتھ نہیں بیٹھوں گا، عمران خان انتہائی جارحانہ خطاب
چیئرمین تحریک انصاف کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو آج صبح اسلام آباد کچہری میں واقع ڈسٹرکٹ سیشن عدالت میں پیش کیا گیا۔شہبازگِل کو وہیل چیئر پر آکسیجن ماسک لگاکر عدالت لایاگیا۔
Continuing torture on Shahbaz Gill as he is forcibly taken into police custody again. @DrAliceJEdwards @hrw @EamonGilmore @EUHumanRights @nchrofficial pic.twitter.com/gw1poDJkuq
— Shireen Mazari (@ShireenMazari1) August 19, 2022
عدالت میں پیشی کے موقع پر شہباز گل دھاڑیں مار مار کررودیے۔شہبازگل نے کہا کہ میرا ماسک چھین کر اتار دیا گیا ، سر میری آکسیجن ، مجھے آکسیجن ماسک دے دیں ،رات دو بجے تک مجھے یہ ٹیکے لگاتے رہے ہیں ، میرا ماسک مجھے دے دیں خدا کا واسطہ ہے۔
عدالت نے استفسار کیا کہ آپ عدالت رہنا چاہتے ہیں ؟شہباز گل نے کہا کہ مجھے ماسک دے دیں میں رک جاؤں گا ، میں دمے کا مریض ہوں مجھے آکسیجن کی سخت ضرورت ہے۔ شہباز گل نے عدالت میں چلانا شروع کردیا جس پر گیس سلنڈر کمرہ عدالت پہنچا دیا گیا۔
پولیس نے عدالت سے ملزم کے مزید 8 روز کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کردی۔عدالت نے استفسار کیا کہ پہلے دو روزہ جسمانی ریمانڈ ہوا تھا آپ 8 دن کی درخواست کیوں لے آئے ؟ آپ شہباز گل کا 8 روزہ جسمانی ریمانڈ کیوں مانگ رہے ہیں ؟عدالت نے ریمارکس دیے کہ ٹیکنیکلی 48 گھنٹے کا جسمانی ریمانڈ ابھی شروع ہی نہیں ہوا ۔
شہباز گل کے وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ایڈیشنل سیشن جج کے آرڈر کے مطابق 48 گھنٹے کا ریمانڈ مکمل ہو چکا ، ابھی دوبارہ اگر وہ لینا چاہتے ہیں استدعا کر سکتے ہیں ۔شہباز گل کی بیماری آپ نے دیکھ لی اس کا جینوئن ایشو ہے ،میڈیکل رپورٹ سے بھی لگ رہا ٹارچر کیا گیا ،میں نے کل ڈاکٹر سے پوچھا انہوں نے مجھے بتایا ہے، ڈاکٹرز کا کہنا ہے کب درد کی کوئی شکایت کرے تو وہ انگلیاں دیکھ کر اندازہ لگاتے ہیں ،پولیس نے جو پرچہ ریمانڈ دیا ہے اس کے مطابق بھی پولیس مان رہی ہے کہ ریمانڈ مکمل ہو چکا ۔
فیصل چوہدری دلائل میں مزید کہا کہ اسپتال میں بھی تفتیش تھی کیونکہ ہمیں تو کل رات نو بجے بطور وکیل ملنے کی اجازت ملی ، پیر کو یہ کیس ہائی کورٹ میں بھی لگا ہوا ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ 48 گھنٹے پورے ہو چکے ہیں ،آپ کے سامنے ہے ملزم کو وہیل چیئر پر آکسیجن سلنڈر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، شہباز گل کا اگر فزیکل ریمانڈ دیا گیا تو میں سمجھتا ہوں اس کے لیے لائف تھریٹ ہے ۔
اس موقع پر فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے ہائی کورٹ کے قائم مقام چیف جسٹس کا کل کا آرڈرپڑھ کر سنایا۔انہوں نے کہا کہ پراسیکوشن نے پیر تک شورٹی دی تھی کہ پیر تک شہباز گل کو وہ اسپتال میں رکھیں گے ۔
جج نے کہا کہ میں نے ایڈیشنل سیشن جج کا آرڈر دیکھنا ہے ۔اس موقع پر شہبازگل نے کہاکہ میری اصل رپورٹ وہ نہیں ہیں جو انہوں نے پیش کیں ہیں عدالت اصل رپورٹ منگوائے ، وکیل نے کہا کہ ابھی بھی شہباز گل کا ماسک اتاریں تو آپ پتہ چل جائے کہ یہ ان کی مستقل بیماری ہے۔
اسپیشل پراسیکیوٹر نے اپنے دلائل میں کہا کہ شہباز گل کو جب ایڈمٹ کیا گیا تو اس کی طبی معائنہ کیا گیا ،تفتیشی افسر نے کل اسپتال میں اجازت مانگی لیکن اسپتال انتظامیہ نے اجازت نہیں دی ، اس حد تک ملزم کی صحت کا ایشو نہیں ہے ، زندگی کا حق ہر کسی کا ہے تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ یقینی بنائے ، عدالتی آرڈر کے بغیر بھی تفتیشی افسر ایمرجنسی طبی معائنہ کرا سکتا ہے ، کہیں نہیں لکھا ہوا کہ کوئی بیمار ہو تو فزیکل ریمانڈ نہیں دیا جا سکتا ، عدالت اگر فزیکل ریمانڈ دے بھی دیتی ہے تو تفتیشی افسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ملزم کی صحت کا خیال کرے ۔
اسپیشل پراسیکیوٹر رضوان عباسی نے کہا کہ کل اڈیالہ جیل کے میڈیکل آفیسر نے ہائی کورٹ کو بتایا کہ جس دن جسمانی ریمانڈ کا حکم ہوا اسی وقت4 بجے ملزم نے شکایت کی، ہائی کورٹ میں جیل ڈاکٹر بھی موجود تھے، رضوان عباسی نے کہا کہ جیل ڈاکٹر نے عدالت کو بتایا کہ جب ملزم ہمارے پاس آئے تو اس وقت ملزم کو کوئی مسئلہ نہیں تھا اور رپورٹ نارمل تھی۔
شہبازگل کے وکیل نےمداخلت کرتے ہوئے کہا کہ جیل ڈاکٹر نے ایسی کوئی بات نہیں کی، اس پر اسپیشل پراسیکیوٹر نے کہاکہ مجھے بات کر لینے دیں، ایسا نہ کریں۔جوڈیشل مجسٹریٹ نے پراسیکیوٹر کو بات جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے فیصل چوہدری کو بعد میں جواب دینے کا کہا۔اس موقع پر اسپیشل پراسیکوٹر کی فزیکل ریمانڈ دینے کی استدعا کردی۔
فیصل چوہدری نے کہاکہ تسلیم شدہ ہے کہ تفتیشی افسر کو اڈیالہ جیل سے شہبازگل کی حراست دی گئی تھی ،ہائی کورٹ کے حکم امتناع کی ضرورت اس لیے نہیں ہے کیونکہ عدالت نے کہا ہے کہ پیر کو میرٹ پر سنیں گے ، شہباز گل کے پھیپھڑوں سے متعلق میڈیکل رپورٹ پیش نہیں کی گئی ،اگر آپ اجازت دیں تو شہباز گل کی میڈیکل ہسٹری بھی عدالت کے سامنے پیش کر سکتے ہیں ۔
اس موقع پر جوڈیشل مجسٹریٹ نے شہباز گل کو دیکھنے کے لیے وکلا کو روسٹرم سے پیچھے ہٹنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کدھر ہے بے چارا ، میں دیکھ لوں ۔بعدازاں عدالت نے فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے کہا کہ آدھے گھنٹے میں فیصلہ سنادیا جائے گا۔
عدالت نے شہبازگل سے ان کے دو وکلا کو ملنے کی اجازت دے دی۔ اس موقع پرشہباز گل نے جج سے بات کرنے کی اجازت مانگ لی۔شہباز گل نے کہا کہ امریکا میں بھی میرا ٹیسٹ ہوتا رہا ہے،اس ٹیسٹ کے بارے میں جانتا ہوں ، یہ ایک ہی ٹیسٹ ہوتا ہے کمپیوٹر کے ذریعے ہوتا ہے ، میری پھپڑوں کی کی ایک ہی رپورٹ ہوئی ہے ، اصل رپورٹ چھپا لی گئی اس کا کوئی ذکر نہیں ۔.
جوڈیشل مجسٹریٹ راجہ فرخ علی خان نے وقفے کے بعد شہبازگل محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے شہباز گل کو پیر تک پمز میں رکھنے کا دے دیا۔عدالت نے شہباز گل کا دوبارہ میڈیکل کرانے کا بھی حکم دیا۔ عدالت نے قرار دیاکہ شہبازگل کو دمہ کا مرض ہے اس کے ٹیسٹ کرائیں،عدالت نے شہباز گل کی پیر تک دوبارہ میڈیکل رپورٹ جمع کرانے کا بھی حکم دے دیا۔









