ٹیکسز سے بھرپور بجلی کے بلز، شہری غم و غصہ میں مبتلا
بھاری ٹیکس والے بجلی کے بلوں نے شہریوں کو شدید ہیجانی کیفیت میں مبتلا کردیا ہے ، کراچی کے شہریوں خصوصاً کے الیکٹرک کے صارفین کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے والا ہے۔
ایک طرف کے الیکٹرک کی جانب سے شہر کراچی میں جاری اعلانیہ اور غیراعلانیہ لوڈشیدنگ اور دوسری جانب ٹیکسز کی بھرمار والے بجلی کے بلوں نے عوام کو دہرے عذاب میں مبتلا کردیا ہے۔
بجلی کے بلوں میں کئی قسم کے ٹیکسز نے بجلی کی فی یونٹ قیمت نے کراچی کے شہریوں کو رونے پر مجبور کردیا ہے۔ عوام سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ بجلی استعمال کریں یا نہ کریں۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی اسٹارٹ اپ carfirst نے اپنا کاروبار بند کردیا
شہباز شریف حکومت میں مہنگائی کے نئے ریکارڈ ، افراط زر 43.31 فیصد تک پہنچ گیا
وزیراعظم شہباز شریف کے عوام کو ریلیف پہنچانے کے لیے کپڑے بیچنے کے بیانات بھی ہوا ہو گئے ہیں۔ کپڑے نہیں بکے مگر عوام کی چیخیں ضرور نکل رہی ہے۔
معروف سیاسی تجزیہ کار اور ولاگر محمد اکرم راہی نے گزشتہ روز سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے جس میں بیوہ خاتون ہاتھوں میں بجلی کا بل لیے رو رہی ہیں کہ وہ یہ بجلی کا بل بھریں گی کیسے۔؟
جب ہاتھ میں بجلی کا بل تھامے ایک بوڑهی عورت رو پڑتی ہے اور کہتی ہے کہ “بیوہ ہوں، بل نہیں دے سکتی” تو حاکمِ وقت احکم الحاکمین کی عدالت میں ان آنسوؤں کی جوابدہی سے کیسے بچ پائے گا؟
كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ@CMShehbaz @PakPMO
pic.twitter.com/HppTDPq4ng— راعی Muhammad Akram (@AkramRaee) August 18, 2022
محمد اکرم راہی نے لکھا ہے کہ ” جب ہاتھ میں بجلی کا بل تھامے ایک بوڑهی عورت رو پڑتی ہے اور کہتی ہے کہ “بیوہ ہوں، بل نہیں دے سکتی” تو حاکمِ وقت احکم الحاکمین کی عدالت میں ان آنسوؤں کی جوابدہی سے کیسے بچ پائے گا؟”
معروف ولاگر محمد اکرم راہی نے اپنی دلیل میں ایک حدیث کو بھی کوڈ کیا ہے "كُلُّكُمْ رَاعٍ وَ كُلُّكُمْ مَسْؤُوْلٌ عَنْ رَّعِيَّتِهِ۔” جس کا ترجمہ ہے ”تم میں سے ہر آدمی ذمہ دار ہے اور ہر آدمی اپنی رعیت کے بارے میں جواب دہ ہے۔ “
دوسری جانب کراچی سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی نعمت خان نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر کے الیکٹرک کا جولائی کا بل شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ” آدھی رات لوڈشیڈنگ کرنے والی کے الیکٹرک نے 112 یونٹ بجلی استعمال کرنے پر 9ہزار 445 روپے کا بل فیول ایڈجسمنٹ، گورنمنٹ ٹیکس ، یہ ٹیکس اور وہ ٹیکس کے نام پر بھیج دیا ہے۔”
آدھی رات لوڈشیڈنگ کرنے والی کے الیکٹرک نے ۱۱۲ یونٹ بجلی استعمال کرنے پر 9445روپے کابل فیول ایڈجسمنٹ، گورنمنٹ ٹیکس ،یہ ٹیکس اور وہ ٹیکس کے نام پر بھیج دیا ہے۔ایک طرف یہ لوٹ مار جاری ہے دوسری طرف رات کو بجلی منقطع کی جاتی ہے کہ سستی گیس اور نیشنل گریڈ سے سستی بجلی نہیں مل رہی (۱/۲) pic.twitter.com/kKtKtYJ7iN
— Naimat Khan (@NKMalazai) August 19, 2022
سینئر صحافی نعمت خان نے لکھا ہے کہ "ایک طرف یہ لوٹ مار جاری ہے دوسری طرف رات کو بجلی منقطع کی جاتی ہے ، کہ سستی گیس اور نیشنل گریڈ سے سستی بجلی نہیں مل رہی۔”
انہوں نے مزید لکھا ہے کہ "صارفین کے لیے پیغام ہوتا تھا “بجلی بچائیں، اپنے لیے قوم کے لیے،” اب آپ جتنی بھی بچت کرلیں کے الیکٹرک نے یہ طے کیا ہے کہ یہ بھلے بجلی نہ دیں، آدھی رات کو جگائے رکھیں گے، اُس نے کسی نہ کسی بہانے سے لوٹ مار جاری رکھنی ہے۔”
سینئر صحافی نعمت خان نے لکھا ہے کہ ” کے الیکڑک کو اہل کراچی کے لیے عذاب اور ڈراؤنا خواب بنانے میں کے ای ایس سی کو پرائیوٹائز کرنے والی سیاسی جماعتیں اور غیرمنصفانہ اضافے کے منظوری دینے والے پاور ڈویژن اور نیپرا کے بابو بھی برابر کے شریک جرم ہیں۔”
انہوں نے حکومت وقت کو مشورہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ "پاور منسٹری اور نیپرا افسران کے اثاثوں کا آڈٹ تو بہت ضروری ہے۔”
تجزیہ کاروں کاکہنا ہے نیپرا اور کے الیکٹرک کی ملی بھگت سے بجلی کے بلوں کی ادائیگی نے عوام الناس کو پریشان میں مبتلا کردیا ہے ، شہباز شریف کپڑے بیچیں یا نہ بیچیں مگر خدارا عوام پر ترس کھائیں ، اپنے کہے ہوئے الفاظ کا ہی پاس رکھ لیں ، عوام کو ریلیف پہنچانے کے دعوؤں پر سو فیصد نہیں تو دس فیصد ہی عمل کرکے دکھا دیں شائد اسی سے عوام کو کچھ ریلیف مل جائے۔









