دہشتگردی کا مقدمہ: عمران خان گرفتار ہوں گے یا ضمانت ملے گی؟

21 اگست کو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران کے خلاف متنازع بیان دینے پر دہشتگردی کی دفع 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

سابق وزیراعظم عمران خان آج انسداد دہشتگردی کی عدالت میں پیش ہوں گے ، اگر ضمانت منسوخ ہو جاتی ہے تو پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اور کارکنان انہیں گرفتار ہونے دیں گے؟ کیونکہ ضمانت منسوخ ہونے کی صورت حکومت عمران خان کی گرفتاری کا اعلان کرچکی ہے۔

تفصیلات کے مطابق چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف جج زیبا چوہدری اور پولیس افسران کے خلاف متنازع بیان دینے پر دہشتگردی کی دفع 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

اتحادی حکومت کیلئے نئی مشکلات، عمران خان کا اسلام آباد کا گھیراؤ کرنے کا اعلان  

چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے لیے ایک دن میں دو خوشخبریاں

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم آج انسداد دہشت گردی کی عدالت میں خود پیش ہوں گے۔

گذشتہ روز چیئرمین پی ٹی آئی کی زیرصدارت لیگل ٹیم کا اجلاس ہوا، جس میں عمران خان نے کل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش ہونے کا فیصلہ کیا۔

اس حوالے سے عمران خان کے وکیل ڈاکٹر بابر اعوان نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ "انسداد دہشتگردی کی عدالت (اے ٹی سی) میں درخواست ضمانت دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، عمران خان کل انسداد دہشت گردی کی عدالت میں خود پیش ہوں گے۔”

بابر اعوان کا کہنا تھا کہ "عمران خان پر جھوٹا مقدمہ قائم کیا گیا، نہ دھماکہ ہوا اور نہ ہی کلاشنکوف کا استعمال ہوا۔”

واضح رہے کہ پی ٹی آئی چیئرمین کے خلاف تھانہ مارگلہ میں دہشت گردی کی دفع 7 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا کہ عمران خان نے ایڈیشنل سیشن جج کو دھمکیاں دیں ، آئی جی اسلام آباد اور ڈی آئی جی کو دھمکیاں دیں۔

مقدمہ درج ہونے کے اگلے روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان کی تین دن کی ضمانت منظور کرتے ہوئے انہیں انسداد دہشت گردی کی عدالت سے رجوع کرنے کا حکم دیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہاں یہ سوال بہت اہم ہے اگر عمران خان کی ضمانت منسوخ ہوتی ہے تو کیا وہ خود یا ان کے ساتھی اور کارکنان انہیں گرفتار ہونے دیں گے، کیونکہ تین روز قبل جب حکومت نے چیئرمین تحریک انصاف کو گرفتار کرنے کےلیے بنی گالہ کا گھیراؤ کیا تھا تو کارکنان نے پولیس کو ایسا کرنے سے روک دیا تھا ، صورتحال انتہائی تشویشناک ہو گئی تھی۔ اس موقع پر حماد اظہر اور مراد سعید نے کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر عمران خان کو گرفتار کیا گیا تو اسلام آباد کی جانب مارچ کیا جائے گا اور حکمرانوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال آج بھی ویسی ہی ہے مگر آج جگہ اور مقام مختلف ہے ، اب دیکھنا یہ ہےکہ پی ٹی آئی کے رہنما اور کارکنان اپنا کہا سچ کر دکھاتے ہیں یا وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اپنے کہے پر عمل کرجاتے ہیں جس کا اعلان انہوں نے دو روز قبل ایک نجی ٹی وی چینل کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا تھا ، یعنی عمران خان کو گرفتار کرلیتے ہیں۔

متعلقہ تحاریر