سندھ کا تیسرا بڑا شہر سکھر بارشوں کے بعد تالاب کا منظر پیش کرنے لگا

سکھر سمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہےجبکہ سکھر میں طوفانی بارشوں سے شہر کے رہائشی و کاروباری مراکز پانی ڈوب گئے جس کے باعث شہر میں نظام زندگی درھم برھم  ہوکر رہ گیا ہے  اور انتظامیہ سب اچھا ہے کی رٹ لگائے ہوئے ہے

سکھرسمیت سندھ کے مختلف اضلاع میں وقفے وقفے سے بارشوں کا سلسلہ جاری ہے۔ سکھر میں طوفانی بارشوں سے شہرکے رہائشی و کاروباری مراکز پانی ڈوب گئے جس کے باعث شہر میں نظام زندگی درھم برھم  ہوکر رہ گیا ہے ۔

ملک کے دیگر حصوں کی طرح سندھ کے دیہی و شہری علاقوں بلخصوص سکھر میں طوفانی بارشوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔ تیز ہواؤں کیساتھ ہونی والی بارش کے بعد سکھر انتظامیہ کی مثالی کارکردگی کی قلعی کھل گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیے

آصف زرداری، بلاول اور شہباز شریف ذاتی دولت سے سیلاب زدگان کی مدد کریں، سراج الحق

شہری انتظامیہ کی مجرمانہ غفلت کے باعث شہر کے رہائشی و تجارتی و کاوباری مراکز اور سڑکیں ندی نالوں میں تبدیل ہوگئیں ہیں لیکن بارش کی پانی کی نکاسی  کا عمل تاحال شروع نہیں کیا گیا ۔

سکھر انتظامیہ کی جانب سے صفائی کے بلند بانگ دعوؤں کے باوجود ابتک متاثرہ علاقوں میں صفائی کے بھی انتظامات میں بہتری نہیں آسکی ہے ۔ جیل موڑ روڈ،ایوب گیٹ،گھنٹہ گھر، اسٹیڈیم روڈ،مینارہ روڈ بد ترین مسائل کا شکار ہو چکے ہیں۔

سکھر کاجیلانی روڈ،ایوب گیٹ،گھنٹہ گھر،ریس کورس روڈ،سوکھا تالاب،ریلوئے انجن شیڈ کالونی،نیو پنڈ،گڈانی پھاٹک،مائیکرو کالونی ،بھوسہ لائن، قریشی گوٹھ،نمائش چوک،پرانہ سکھر،مہران مرکز برساتی پانی کے وجہ سے گندگی کا شکار ہوچکے ہیں۔

بلدیہ اعلیٰ سکھر کے ناقص انتظامات پر شہری حلقوں نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ سندھ، صوبائی وزیربلدیات ،کمشنر سکھر ،ڈپٹی کمشنر سکھر،ایڈمنسٹریٹر ،میونسپل کمشنر سمیت دیگر بالا حکام سے نوٹس لیکر شہریوں کو بلدیاتی سہولیات کی فراہمی یقینی بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ تحاریر