عابد شیر علی نے مفتاح اسماعیل کو آئی ایم ایف سے نئے معاہدوں کا مشورہ دے دیا
رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا ہے اگر حکومت نے عوام کو مہنگائی اور بجلی کے بلوں میں ریلیف فراہم نہ کیا تو وہ خود اپنی حکومت کے خلاف احتجاج پر مجبور ہوں گے۔
25 ستمبر کو این اے 108 فیصل آباد سے عمران خان کے خلاف ضمنی انتخاب لڑنے والے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما عابد شیر علی اپنی حکومت پر پھٹ پڑے ، بولے عوام کو ریلیف نہ دیا گیا تو ہم خود عوام کے ساتھ احتجاج میں شامل ہو جائیں گے۔ 200 یونٹ تو ایک موٹر چلانے والے کا بل آجاتا ہے۔
فیصل آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے رہنما مسلم لیگ (ن) کا کہنا تھا ایک غریب آدمی یا رکشہ ڈرائیور موٹر چلائے تو دو سو یونٹ بجلی خرچ ہو جاتی ہے ، دو سو پانچ یونٹ بجلی کے استعمال ہوں تو بل آسمان پر چلا جاتا ہے ، تیس تیس ہزار روپے بجلی کے بل آرہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
مولانا فضل الرحمان کا بغض عمران خان سے بھرپور ٹوئٹر پیغام
فیصل واوڈا اداروں اور عمران خان کے درمیان فاصلے مٹانے کیلیے متحرک
وزیر خزانہ پر طنز کے تیر چلاتے ہوئے عابد شیر علی کا کہنا تھا مفتاح اسماعیل صاحب دفتر سے باہر نکل کر غریب عوام میں جائیں ، آپ کو لگ پتا جائے گا ، آپ کو سمجھ آئے کہ لوگ رہتے کیسے ہیں۔
رہنما ن لیگ عابد شیر علی کا کہنا تھا ہمارا مقابلہ عمران نیازی سے نہ پہلے تھا اور نہ اب ہے ، ہمارا مقابلہ تو مہنگائی کے ساتھ ہے ، بجلی کے بلوں کے ساتھ ہے۔
عابد شیر علی کہنا تھا کہ عمران خان نے جو آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کیے تھے ان پر عمل نہ کریں ، آپ آئی ایم ایف کے ساتھ نئے معاہدے کریں ، نواز شریف نے 18 گھنٹے کی لوڈشیڈنگ ختم کی تھی ، اس وقت بھی آئی ایم ایف کا پریشر تھا۔
رہنما ن لیگ کا کہنا تھا خدارا عوام کو ریلیف دیں ، ہمارے لیے اپنے حلقوں میں جانا مشکل ہوتا جارہا ہے ، لوگوں میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ بجلی کے بل ادا کرسکیں، ہماری حکومت نے کبھی غریبوں پر بوجھ نہیں ڈالا تھا۔
عابد شیر علی نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا یہ جو لوگ احتجاج کررہے ہیں یہ اور پارٹیوں کے لوگ نہیں ہیں ، یہ پاکستان مسلم لیگ ن کے لوگ ہیں ، مفتاح اسماعیل صاحب ہوش کے ناخن لیں ، اس سے پہلے کہ ہم بھی عوام کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ اگر ن لیگ ہی احتجاج کرے گی تو ہمارا یہاں کیا بچے گا ۔









