شہباز گل کا اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ شہباز گل کے خلاف 12 اگست کے بعد ہونے والی تمام تحقیقات اور شواہد کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
پاکستان تحریک انصاف کے اسیر رہنما شہباز گل نے اپنے جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل خارج کرنے کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کرلیا۔
درخواست میں انہوں نے استدعا کی کہ ان پر تشدد کی تحقیقات کے لیے آزاد اور غیر جانبدارانہ میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جب کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا جسمانی ریمانڈ سے متعلق سرکاری اپیل منظور کرنے کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔
شہباز گل کے وکیل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں میں وفاق ، ایڈیشنل سیشن جج اور ایس ایس پی انویسٹی گیشن پولیس اسلام آباد کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز گل کی ضمانت کا معاملہ: عدالت کا پولیس کو ریکارڈ پیش کرنے کا آخری موقع
آئی ایم ایف کے ساتھ ڈیل خطرے میں، پی ٹی آئی کا اشارہ کہیں ہے نشانہ کہیں
درخواست میں مزید جن افراد کو فریق بنایا گیا ہے ان میں آئی جی اسلام آباد ، ایس ایچ او تھانہ کوہسار اور بیرسٹر غلام مصطفیٰ چانڈیو شامل ہیں۔
سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ شہباز گل کے خلاف 12 اگست کے بعد ہونے والی تمام تحقیقات اور شواہد کو غیر قانونی قرار دیا جائے۔
شہباز گل کی حراست کو غیرقانونی اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے شہباز گل کے جسمانی ریمانڈ کے خلاف اپیل خارج کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا جائے جب کہ سیشن جج زیبا چوہدری کی جانب سے تحریک انصاف کے سیاسی رہنما شہباز گل کے دو روزہ جسمانی ریمانڈ کے فیصلے کو بھی کالعدم قرار دیا جائے۔
درخواست گزار کی جانب سے کہا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کا جسمانی ریمانڈ سے متعلق سرکاری اپیل منظور کرنے کا فیصلہ بھی کالعدم قرار دیا جائے اور شہباز گل پر تشدد کی انکوائری کے لیے آزاد اور غیر جانبدار میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے۔









