ترکی، ایران اور یو اے ای اور آذربائیجان کے صدور کی سیلاب زرگان کے لیے ہر ممکن مدد کی یقین دہانی
وزیراعظم شہباز شریف نے ترکی، ایران ، یو اے ای اور آذربائیجان کے صدور کا امداد کے اعلان پر شکریہ ادا کیا ہے۔
ہفتے کے روز ترکی، ایران اور متحدہ عرب امارات کے صدور نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور سیلاب سے ہونے والی جانی نقصان پر دکھ کا اظہار کیا اور پاکستان کی حکومت اور عوام کو ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی، اسی آذربائیجان کے صدر نے پاکستانی سیلاب متاثرین کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔
طیب اردگان کا وزیراعظم کے ساتھ اظہار ہمدردی
ترک صدر رجب طیب اردوان نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے ہوئے شدید بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان پر اظہار تعزیت کیا اور کہا کہ ان کا ملک ہمیشہ کی طرح پاکستان کی مالی مدد کرے گا۔
یہ بھی پڑھیے
سوات میں پاک فوج کا ریسکیو آپریشن جاری، 110 افراد محفوظ مقامات پر منتقل
وزیراعظم نے ترک صدر کو پاکستان میں سیلاب کی تازہ ترین صورتحال اور ہنگامی بنیادوں پر امداد کی فراہمی کے لیے حکومتی کوششوں کے بارے میں آگاہ کیا۔
وزیر اعظم نے اس بات پر روشنی ڈالی جون 2022 سے مون سون بارشوں کا سامنا ہے ، غیرمعمولی بارشوں کی وجہ سے ملک کے مختلف حصوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچی ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں انسانی جانوں، ذریعہ معاش اور بنیادی ڈھانچے کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا ہے۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ بارشوں کے دوران انفراسٹرکچر کو شدید نقصان پہنچنے کے باوجود حکومت متاثرہ علاقوں تک پہنچنے، لوگوں کی نقل مکانی میں مدد اور ان تک امداد پہنچانے کے لیے تمام تر کوششیں کر رہی ہے۔
دو طرفہ تناظر میں وزیراعظم نے تمام شعبوں میں تعلقات کو فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔ انہوں نے جموں و کشمیر کے لوگوں کے لیے ترکی کی غیر متزلزل حمایت پر صدر اردگان کا شکریہ بھی ادا کیا۔
ایرانی صدر نے حمایت کا یقین دلایا
ایران کے صدر سید ابراہیم رئیسی نے وزیراعظم شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطہ کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام شعبوں میں امداد کے لیے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
وزیر اعظم نے سیلاب کی صورتحال پر ایرانی صدر رئیسی کی ہمدردی پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
وزیر اعظم شہباز شریف نے اس بات پر زور دیا کہ سڑکوں اور پلوں سمیت بنیادی ڈھانچے کےمتاثر ہونے سے انسانی المیہ مزید سنگین ہوتا جارہا ہے ۔ بڑے پیمانے پر سڑکوں کی تباہ حالی سے امدادی کارروائیوں میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے، لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل اور سامان رسد کی ترسیل میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ حکومت پاکستان "اقوام متحدہ کی فلیش اپیل” کےلیے تیاری کررہا ہے جو 30 اگست 2022 کو شروع کی جائے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ عالمی برادری فلیش اپیل کی فنڈنگ کی ضروریات کو پورا کرنے میں اپنا کردار ادا کرے گی۔ .
یو اے ای کے سلطان النہیان کا پاکستانی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی
اسی طرح متحدہ عرب امارات کے صدر عزت مآب شیخ محمد بن زید النہیان نے ہفتہ کے روز وزیراعظم محمد شہباز شریف کو ٹیلی فون کیا۔
گفتگو کے دوران متحدہ عرب امارات کے صدر نے پاکستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب کے باعث قیمتی جانوں کے ضیاع پر دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
عزت مآب شیخ زید بن سلطان النہیان نے اس مشکل وقت میں پاکستانی عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور تمام زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ۔
متحدہ عرب امارات کے صدر نے اس قدرتی آفت سے نمٹنے کے لیے پاکستان کو ہر ممکن مدد کی پیشکش کی۔ اس تناظر میں، انہوں نے وزیراعظم کو آگاہ کیا کہ متحدہ عرب امارات فوری طور پر خیموں اور پناہ گاہوں کے سامان کے علاوہ کھانے پینے کی اشیاء کے ساتھ ساتھ طبی اور دواسازی کا سامان بھی بھیجے گا۔
وزیراعظم نے متحدہ عرب امارات کے صدر کو ملک میں مون سون کی غیر معمولی بارشوں سے ہونے والی ملک گیر نقصان بارے میں آگاہ کیا۔
آذربائیجان کے صدر کا سیلاب زدگان کے لیے 2 ملین ڈالر کا اعلان
اکنامک کوآپریشن آرگنائزیشن (ای سی او) میں آذربائیجان کے مستقل نمائندے اور ایران میں سفیر علی علی زادہ نے اتوار کے روز کہا کہ آذربائیجان کے صدر الہام علیف کی ہدایت پر پاکستان کے لیے 2 ملین امریکی ڈالر دینے کا اعلان کیا۔
علی علی زادہ، جو پاکستان میں آذربائیجان کے سفیر بھی رہ چکے ہیں، نے اپنے ٹوئٹر ہینڈل سے اس بات کا اعلان کیا۔
انہوں نے پوسٹ کیا کہ "صدر کی ہدایات پر آذربائیجان پاکستان کو بڑے پیمانے پر سیلاب کے نقصانات کو کم کرنے میں مدد کے لیے 20 لاکھ امریکی ڈالر کی امداد فراہم کرے گا۔”
دوسری جانب متحدہ عرب امارات (یو اے ای) سے امدادی سامان کی پہلی کھیپ نور خان ایئربیس اسلام آباد پہنچ گئی ہے۔
امدادی سامان میں خیمے، خوراک، ادویات اور دیگر اشیاء شامل ہیں۔









