امریکی ڈالر کے مقابلے میں انٹربینک میں روپے کی قدر میں 0.57 فیصد کمی ریکارڈ
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ ملک میں جاری سیاسی عدم استحکام ہے۔

امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کا سلسلہ جاری ہے ، کاروباری ہفتے کے پہلے روز انٹربینک مارکیٹ میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں مزید 1.26 روپے کمی واقع ہو گئی۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کہا ہے کہ کاروباری ہفتے کے پہلے روز یعنی سوموار کو کاروبار کے اختتام پر پاکستانی کرنسی کی قدر میں 0.57 فیصد کمی ہوئی ، اس طرح ڈالر روپے کے مقابلے میں 221.92 روپے پر بند ہوا۔
گزشتہ کاروباری ہفتے کے دوران امریکی ڈالر کے مقابلے میں انٹر بینک میں روپے کی قدر 2.7 فیصد کم ہو کر 220.66 پر آ گئی تھی۔
یہ بھی پڑھیے
شہباز حکومت نے مالی سال کے پہلے ماہ میں معیشت کا دھڑن تختہ کردیا
سعودی عرب کی 8 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی آفر سرخ فیتے کی نذر
مارکیٹ میں ان اطلاعات کے باوجود کہ قطر انویسٹمنٹ اتھارٹی (کیو آئی اے) پاکستان میں 3 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، پاکستانی روپے زوال جاری ہے۔
Interbank closing #ExchangeRate for todayhttps://t.co/9XdmT2Kteh pic.twitter.com/APUHyVWtRO
— SBP (@StateBank_Pak) August 29, 2022
سعودی عرب کی سرکاری ایجنسی سے گزشتہ ہفتے جمعرات کو رپورٹ کیا تھا کہ شاہ سلمان نے ملک کے کاروباری حضرات اور انویسٹرز کو پاکستان میں 1 بلین ڈالر کی سرمایہ کاری کرنے کی حکم دیا تھا۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر میں مسلسل گراوٹ کی وجہ ملک کے اندر ہونے والی گرما گرم سیاسی پیش رفت ہے جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا ، معاشی استحکام نہیں آسکتا۔
تاہم، سب کی نظریں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے اہم ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس پر ہیں جو پاکستان کو 1.17 بلین ڈالر کے قرض کی سہولت کی فراہمی کے لیے آج (پیر) کو ہونے والا ہے۔
بورڈ اجلاس کی منظوری سے پاکستان کو فوری طور پر 1.17 بلین ڈالر مل جائیں گے۔









